میں ایک شپنگ کمپنی میں کام کرتا ہوں، اور ہم کمیشن کی بنیاد پر برو کر بھی ہیں ،اور ہم اپنی شپ کرائے پر لے کر اس پر کاروبار کرتے ہیں، ایک دفعہ ایک دوست جو کہ کسی اور بروکنگ کمپنی میں کام کرتا ہے ، اس نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے کاروباری معاملات اپنی کمپنی سے کرو، میں آپ کو دس فیصد کمیشن دوں گا، جو کمیشن خود کماؤں گا، یہ بات میری کمپنی کو نہیں پتہ ، کیا میرا یہ معاملہ درست ہے؟ کیا اس سے کمایا ہوا پیسہ جائز ہے یا حرام ہے، جیسا کہ رشوت؟
اگر سائل کمپنی کا باقاعدہ ملازم نہ ہو، اور وہ کمپنی کی انتظامیہ کے علم میں لاکر ان کی رضا مندی کے ساتھ مذکور معاملہ کرتا ہے، اور کمپنی کی طرف سے اس کی اجازت ہو تو بلاشبہ اس کا اس قسم کا معاملہ شرعاً جائز ہے، اور اس صورت میں کمایا ہوا نفع بھی حلال ہے ۔
في دور الحكام: اعلم أن الأجير للخدمة أو لرعی الغنم إنما یکون أجيراً خاصاً إذا شرط عليه أن لا یخدم غيره ولا يرعى غيرها أو ذكر المدة أو لا اھ (۲/۳۳۶)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0