اگر حلالہ کی غرض سے لڑکی کے ورثاء کسی دوسری جگہ نکاح کراتے ہیں اور مرد کو پتہ ہو کہ اس نے کچھ ٹائم کے بعد طلاق دے دینی ہے اور پہلے شوہر کی مرضی سے یہ سب کچھ ہوا ہو تو اسلام کا کیا حکم ہے ؟ (۲) دوسرا سوال یہ ہےکہ اس صورت میں جو باقی رشتہ دار ہوں ان کو حمایت کرنی چاہیے یا مخالفت؟
اگر کوئی اس عورت سے اس نیت سے شادی کرے کہ مذکور عورت اور اس کی اولاد اور سابق شوہر کی زندگی تباہ ہونے سے بچ جائے اور پھر سے ان کا گھر آباد ہو جائے اور پھر بوقت نکاح کسی قسم کی شرط لگائے بغیر وہ گواہان کی موجودگی میں نکاح ہو اور ہمبستری کے بعد وہ اپنی مرضی سے عورت کو طلاق دیدے، تو اس صورت میں کوئی گناہ گار بھی نہیں ہوگا ۔ جبکہ بوقت عقد نکاح اگر حلالہ یا ایک بار ہمبستری کے بعد طلاق کی شرط لگائی جائے تو اس طرح کا حلالہ احادیث مبارکہ کی رو سے ناپسندیدہ ہے ، اور اس میں رشتہ داروں کو مخالفت کرنی چاہیے۔
كما قال تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]
و في الدر المختار: (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط (الى قوله) (أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي اھ (3/ 415)
و في الفتاوى الهندية: رجل تزوج امرأة ومن نيته التحليل ولم يشترطا ذلك تحل للأول بهذا ولا يكره وليست النية بشيء ولو شرطا يكره وتحل عند أبي حنيفة وزفر رحمهما الله تعالى كذا في الخلاصة وهو الصحيح اھ (1/ 474) واللہ اعلم بالصواب
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0