کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دو منزلہ بلڈنگ ہے دوسری منزل پر زید نے تقریباً پچیس (۲۵) سال پہلے گودام پگڑی پر حاصل کیا تھا اور اس پچیس سال کے عرصہ میں زید کو گودام کی چھت بھی اپنے خرچہ سے مرمت کروانی پڑی، اور ایک سے زائدہ بار گودام کا فرنیچر بھی بنوانا پڑا، جبکہ مذکور بلڈنگ کے سارے گودام اور آفس پگڑی پر ہیں ، اب جبکہ جگہ کا ریٹ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، بلڈنگ کا مالک یہ چاہتا ہے کہ آج سے تیس چالیس سال پہلے کے ریٹ کے حساب سے لی گئی پگڑی کی رقم کرایہ دار کو واپس کر کے ان سے جگہیں خالی کرا لیں۔
پرانی عمارت گرا کر جو کہ بہت بوسیدہ ہو چکی ہے اس کی جگہ نئی عمارت کھڑی کی جائے، کرایے دار یہ کہتے ہیں کہ نئی عمارت پر جو بھی خرچہ ہو اس میں ہم اپنے حصہ کی رقم ادا کر دیں گے اور ہمیں ہماری جتنی جگہ بھی بنتی ہے دے دی جائے مگر مالک راضی نہیں اور وہ کرایہ داروں کو بے دخل کر دینا چاھتا ہے، جو مروجہ مارکیٹ کے اصول وقواعد کے خلاف ہے۔
آیا کرایہ داروں کا یہ مقدمہ کرنا اور زید کا ان کے ساتھ مقدمہ میں شراکت کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
نوٹ : آج پچیس تیس سال پہلے اس گودام کی پگڑی کی قیمت ساٹھ (۶۰) پینسٹھ (۶۵) ہزار روپے تھی اور آج اس کی قیمت مارکیٹ کے حساب سے پچیس سے تیس لاکھ روپے کے درمیان میں ہے۔
پگڑی پر لی ہوئی دکان یا مکان دراصل لین لارڈ کی ملکیت ہوتی ہے، اس لیے کرایہ داری کی شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر وہ ایڈوانس یا پگڑی کے نام سے لی ہوئی رقم واپس کر کے اپنی دکان یا مکان واپس لینا چاہے تو شرعا اس کا اسے اختیار ہے لہذا صورت مسئولہ میں مذکور معاملہ میں بھی اگر ایسی ہی صورت حال ہو تو کرایہ دار صرف اتنی رقم لینے کے حق دار ہیں، جتنی انہوں نے گودام کرایہ پر لیتے وقت ادا کی تھی یا اصل مالک کی اجازت اور اس کے علم میں لانے کے بعد اس عمارت کی مرمت وغیرہ کے سلسلہ میں خرچ کی تھی اور اس سلسلہ میں کیس لڑنے سے بھی احتراز لازم ہے۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0