میری ایک مشین ہے، جوکہ پرنٹنگ سے پہلے کام آتی ہے، اس مشین پر پلیٹ نکلتی ہے، یعنی جو بھی ڈیزائن کمپیوٹر سے بھیجا جائے گا، وہ اس پلیٹ پر کھلے گا اور پھر اس کے ذریعہ سے آگے پرنٹنگ کی مشین پر لگے گا، میں یہ مشین کسی کو ماہانہ کرایہ پر دینا چاہتا ہوں، اس مشین پر دینی کام بھی نکل سکتے ہیں اور اخبار اور مختلف کمپنیوں کے اشتہارات بھی، تو پوچھنا یہ ہے کہ اس مشین کو میں کرایہ پر دے سکتا ہوں؟ براہِ مہربانی شرعی حکم سے آگاہ کریں۔
سوال میں مذکور مشین کرایہ پر دے کر اجرت لینا درست اور جائز ہے، البتہ کرایہ دار اگر اس مشین سے خلافِ شرع امور بھی سرانجام دیتا ہو تو اس کا وبال کرایہ دار پر ہوگا، نہ کہ مالک پر، بشرطیکہ مالک کو پہلے سے اس کا علم نہ ہو ۔
وفی الھندیة: وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لايؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط اھ(4/450)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0