محترم پوچھنا یہ ہے کہ شرعی طور پر فتوی کی کیا حیثیت ہے کیا یہ صرف ایک مفتی کی رائے ہوتی ہے یا حکم کے طور پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی مستند عالم کا فتوی ہے کہ فلاں شخص کا فر ہے اور جو اس کے کافر ہونے پر شک کرے وہ بھی کافر ہے تو کیا اس فتوی کو شرعی حکم مانا جائے تو جو جو لوگ شک کرتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص گمراہ بد مذہب ہے تو ہے مگر کافر تھا یا نہیں تو کیا وہ لوگ بھی کافر ہو گئے؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روح کس نے قبض کی تھی؟
مفتی کا فتویٰ شرعا حکم شرعی ہی ہوتا ہے اس کی ذاتی رائے نہیں ہوتی، تاہم فتویٰ کے اصولوں میں سے یہ بھی ہے کہ فتوی اجتماعی ہو انفرادی نہ ہو، جب کہ سائل نے مثال میں جو مسئلہ ذکر کیا ہے وہ درست نہیں ،بلکہ کسی معقول وجہ کی بناء پر یا کسی کا کفر واضح نہ ہونے کی وجہ سے اس کے کفر میں شک کرنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ جبکہ تمام انسانوں کی روحوں کو قبض کرنے کے لیے حضرت عزرائیل علیہ السلام مقرر ہیں اور وہی ہر انسان کی روح قبض کرتے ہیں، اس لئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح بھی حضرت عزرائیل نے ہی قبض کی ہے۔