کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام لفظِ سید کی تعریف میں، میں نے شاید مولانا لدھیانوی شہیدؒ کے فتویٰ میں پڑھا تھا ، عبد المطلب، بنو الحارث ،آلِ جعفر، آلِ عقیل، عباس بن عبد المطلب، لیکن کہیں سید سے مراد وہ ہستیاں ہیں، جو حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہؓ کے ملاپ سے پیدا ہوئی ،اولاد تو باپ کے نسل سے چلتی ہے، کیا یہ تعارض نہیں ہے ،علاوہ ازیں آلِ عباس، آلِ عقیل، کی اولاد سید کیوں نہیں کہلاتی، اور اب ان لوگوں کا وجود کہاں ہے، کیا ہم ان کو بھی سید کہہ سکتے ہیں؟
سید کا معنیٰ ہے ’’قوم کا سردار اور بڑا‘‘ جبکہ سید سے مراد لغۃً واحتراماً بنو العباس، بنو الحارث، بنو علی، بنو العقیل، بنو جعفر سب ہیں، مگر اصطلاحاً سید کا لفظ بنو فاطمہؓ کے لئے خاص ہو گیا ہے، اور یہ صرف حضورﷺ کی خصوصیت ہے کہ آپﷺ کی بیٹیوں کا نسب آپ کی طرف ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله: وبني هاشم إلخ) اعلم أن عبد مناف وهو الأب الرابع للنبي - صلى الله عليه وسلم - أعقب أربعة وهم: هاشم والمطلب ونوفل وعبد شمس، ثم هاشم أعقب أربعة انقطع نسل الكل إلا عبد المطلب اھ (2/ 350)۔
وفيھا أیضا: (قوله: وبه أفتى شيخنا الرملي) حيث قال في فتاواه في باب ثبوت النسب (إلی قوله) وسئل أيضا عن أولاد زينب بنت فاطمة الزهراء زوجة عبد الله بن جعفر الطيار. فأجاب أنهم أشراف بلا شبهة؛ إذ الشريف كل من كان من أهل البيت علويا أو جعفريا أو عباسيا اھ(6/ 685)۔