السلام علیکم ! مفتی صاحب ! میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا شوہر کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس جائے حیض کے بعد ، مگر بیوی نے غسل نہ کیا ہو یا اس کیلئے پہلے غسل ضروری ہے اگرچہ وہاں حیض کا کوئی نشان نہ ہو اور کیا یہ گناہ ہوگا اگر شوہر بیوی کے نہانے سے پہلے اس کے پاس جائے ؟جزاک اللہ خیر۔
اگر بیوی ماہواری کے ایام پورے ہونے کے باوجود غسل کرنے میں اس قدر تاخیر کرے کہ اس دوران ایک نماز کا وقت بھی اس پر گزر جائے تو شوہر بیوی کے غسل کرنے سے پہلے بھی اس سے ہمبستری کرسکتا ہے اور اس صورت میں شوہر گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
کما فی الفتاوی الھندیة : إذا مضى أكثر مدة الحيض و هو العشرة يحل وطؤها قبل الغسل مبتدأة كانت أو معتادة و يستحب له أن لا يطأها حتى تغتسل ، هكذا في المحيط و إذا انقطع دم الحيض لأقل من عشرة أيام لم يجز وطؤها حتى تغتسل أو يمضي عليها آخر وقت الصلاة الذي يسع الاغتسال و التحريمة ؛ لأن الصلاة إنما تجب عليها إذا وجدت من آخر الوقت هذا القدر ، هكذا في الزاهدي (الیٰ قوله) لو انقطع دمها دون عادتها يكره قربانها و إن اغتسلت حتى تمضي عادتها و عليها أن تصلي و تصوم للاحتياط، هكذا في التبيين اھ (1/39)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0