السلام علیکم!
جناب عزت مآب، ایک مسئلہ کی وضاحت مطلوب ہے، کیا فرماتے مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت نے شادی کی، شادی کے کچھ عرصہ بعد اس کو طلاق ہو گئی، اس خاتون نے اپنی عدت پوری کر کے دوسرے آدمی سے شادی کر لی، پھر کچھ عرصہ بعد اس دوسرے آدمی سے طلاق لے کر پہلے شوہر سے دوبارہ شادی کر لی، پھر تین سال تک پہلے شوہر کے ساتھ اس کے نکاح میں رہی پھر دوبارہ طلاق ہو گئی، اس عورت کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں، اور چھوٹی بیٹی بھی دودھ پی رہی ہے، اب اس عورت نے عدت پوری کر کے دوبارہ اس دوسرے آدمی سے نکاح کر لیا ہے، اس مسئلہ کی وضاحت قرآن و سنت کی روشنی میں فرما کرعند اللہ ماجور ہوں۔
مذکور خاتون نے اگر واقعۃً پہلے شوہر سے طلاق کے بعد عدت مکمل کر کے دوسرے شوہر سے نکاح کیا ہو اور یہ نکاح باضابطہ گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے تقرر کے ساتھ ہوا ہو تو یہ دوسر انکاح شرعاً بھی منعقد ہو چکا ہے ،اب وہ دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
کما في الفتاوىٰ الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (1/473)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0