کہیں محلہ والے حافظ صاحب کو امام ثانی کے طور پر بغیر تنخواہ کے متعین کرلیتے ہیں، پھر اخیر رمضان میں ہدیہ کے نام پر کچھ رقم حوالہ کردیتے ہیں ،جبکہ کہیں اہل محلہ حافظ کو تراویح پڑھانے کےلیے متعین کر دیتے ہیں، اخیر رمضان میں کچھ رقم انھیں دیدتے ہیں دونوں صورتوں میں اہل محلہ اسے ہدیہ کے طور پر دینے کی بات کرتے ہیں، اور حافظ صاحب اسے ہدیہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں دونوں صورتوں کا حکم بیان فرمادیں؟
اگر کسی علاقہ میں تراویح پڑھانے پر مشروط یا معروف وظیفہ نہ دیا جاتا ہو اور تراویح پڑھانے والے کی نیت بھی لینے کی قطعاً نہ ہو ،تو اس صورت میں کوئی ایک شخص یا چند اشخاص غیر ضروری سمجھتے ہوئے اپنے طور پر حافظ قرآن کو کچھ دیدیں اور وہ قبول کرلے، تو اس کےلینے میں شرعا کوئی قباحت نہیں، اگرچہ اس سے بھی احتراز افضل و بہتر ہے۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0