السلام علیکم مفتی صاحب! ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ کیا اس دور میں تبلیغ ضروری ہے، جبکہ کفار نے ہم پر حملے شروع کر دیئے ہیں، چاہے وہ میدانِ جہاد میں ہوں یا ذہنی غلامی کے حساب سے ہوں، کیا اب بھی مسلمان لوٹا اور تسبیح لیکر گھومیں گے، جبکہ کفار اسلحہ سے کھیل رہے ہیں، ان کفار کا بچہ بچہ کلاشنکوف چلانا جانتا ہے، جبکہ ہمارے بچے کرکٹ کے گیند بلا کے شیدائی ہیں، اس کا کیا حل ہے میں سوچ سوچ کر پاگل ہو گیا ہوں، ہمارا کیا بنے گا، کچھ لوگ دین کے نفاذ کیلئے اگر اقدام کریں، تو دوسرے علماء انہیں غلط کہتے ہیں، آخر علماء کا آپس میں اتفاق کیوں نہیں ہورہا، پلیز مجھے بتائیں کہ ہمیں کیا ہو گیا ہے، ہندو انگریز ہمیں ختم کرنا چاہتا ہے اور ہم انڈیا کے گانے سنتے ہیں، وہ ہمیں ختم کرنے کیلئے کمپیوٹر استعمال کر رہے ہیں اور ہم اس کمپیوٹر میں ان کے گانے اور فلمیں دیکھتے ہیں آخر کیوں؟ مہربانی کر کے مجھے بتائیں۔
ایسے حالات میں اولاً تو ہرشخص کو اپنے ذمہ احکامِ شرعیہ میں کوتاہی پر توبہ واستغفار لازم ہے، جبکہ ثانیاً اپنی روزمرہ کی زندگی سےمتعلق احکامِ شرعیہ کو سیکھ کر اس کے موافق عمل اور سنتِ نبوی کی اتباع کی اشد ضرورت ہے، جب ہر شخص کا تعلق اپنے خالقِ حقیقی کے ساتھ قائم ہو کر اور اس سے حبِ جاہ و شہرت نکل کر فکر ِآخرت غالب ہو جائے گی، تو ربِ کریم کی طرف سے بھی ان کی چاہت کے مطابق فیصلے ہوں گے، کفار کو ذلت و رسوائی اور مسلمانوں کو فتح و عزت اور دنیا و آخرت کی سرخروئی نصیب ہوگی، اس لئے اس کی کوشش چاہیے اور ایک دوسرے کواسی کی تلقین کرنی چاہیے۔
کما قال الله تعالىٰ: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} [الشورى: 30]
وفيه أیضاً: {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ ۔ الآیة} [الشورى: 25]
وفيه أیضاً: {وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا (إلى قوله) وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔ الآیة} [النور: 55، 56]