السلام علیکم حضرت میرا سوال ہے اگر آپ اس پر راہ نمائی فرما سکیں، سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی گاڑی ایک رینٹ کار سروس میں لگائی ہے، جس سے ماہانہ ایک طے شدہ کرایہ آتا ہے ، جس طرح گھر کا طے شدہ کرایہ ہوتا ہے، مجھے کسی نے کہا کہ یہ سود ہے تو کیا یہ واقع سود کے زمرے میں آئے گا ؟ اگر ہاں تو کیا وجوہات ہیں اور جو لوگ اپنا گھر کرایہ پر دیتے ہیں تو کیا وہ بھی سود ہے؟ دوسرا سوال بھی اسی سے مطابقت رکھتا ہے وہ یہ کہ گھر میں کسی کے ساتھ پیسے ملا کر ایک گھر لوں اور وہ بھی اس کی طرح کرایہ (پر) لگا دوں تو کیا یہ بھی سود ہے ؟ اور اگر کبھی مجھے اپنے پیسے کی ضرورت پڑے تو کیا مجھے اتنی ہی رقم مانگنی چاہیے، جتنی لگائے تھی یا کچھ کمی بیشی اور اس کا کیا حساب ہوگا ؟ آپ کی راہ نمائی کا شکریہ !
گھر یا گاڑی کو طے شدہ کرایہ پر دینا اور ماہانہ اس کرایہ کو وصول کر ناشر عا جائز ہے ، بشرط یہ کہ کوئی اور خلاف شرع شرط نہ لگائی گئ ہو، چنانچہ مشتر کہ گھر یا گاڑی بوقت ضرورت فروخت کرنے کی صورت میں اصل رقم کے ساتھ اپنے حصے کا نفع بھی لینا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
كما في الدر المختار: (وتنعقد بأعرتك هذه الدار شهرا بكذا) (الى قوله) أو أجرتك (منافعها) شهرا (الى قوله) وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. وحكمها وقوع الملك في البدلين ساعة فساعة اھ (6/ 5)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0