میں نے مشت زنی کے بارے میں پڑھا۔ اب میں معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ: یہ سچ ہے کہ نہیں ان اقوال صحابہ کے بعد جو نقل کئے گئے ہیں ابن حزم المحلی میں؟ پس یہ اقوال اشارہ کرتے ہیں اس فعل مشت زنی کے جواز پر۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ میرے نزدیک لونڈی سے نکاح کرنا افضل ہے مشت زنی سے، اور مشت زنی بہتر ہے زنا سے ،یہ کوئی چیز نہیں سوائے اپنے ذکر کے مسلنے کے ،یہاں تک کہ اس سے منی خارج ہو جائے۔ عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ: جس نے مشت زنی کی اس نے حماقت کی۔ جابر بن زید نے فرمایا کہ: تیرا پانی ہے تو اس کو خارج کر سکتا ہے جیسے چاہے ۔حضرت حسن بصری رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس میں کوئی نقصان نہیں ہے۔
مشت زنی و خود لذتی کے ذریعہ مادہ تولید ضائع کرنا شرعا نا جائز و حرام ہے ،اور ایسے شخص کو احادیث مبارکہ میں ملعون قرار دیا گیا، اور ایک حدیث میں فرمایا کہ: وہ کل قیامت میں اس طرح حاضر ہوگا کہ: اس کا ہاتھ حاملہ ہوگا۔ اس لئے عام حالات میں اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کسی کو زنا میں بالفعل مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو، اور مشت زنی کے علا وہ کوئی حل نہ ہو، تو ایسی صورت میں زنا جیسے گناہ کبیرہ سے بچنے کے لئے بعض علماء کرام نے اس کی گنجائش دی ہے اور فرمایا ہے کہ: امید ہے کہ اس پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ علامہ ابن حزم وغیرہ حضرات کی عبارات کو ایسی ہی حالت پر محمول کیا جائے۔
كما في الدر المختار: وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون» ولو خاف الزنى يرجى أن لا وبال عليه اھ (2/ 399)
و في فتح القدير للكمال ابن الهمام: ولا يحل الاستمناء بالكف ذكر المشايخ فيه أنه - عليه الصلاة والسلام - قال «ناكح اليد ملعون، فإن غلبته الشهوة ففعل إرادة تسكينها به فالرجاء أن لا يعاقب» اھ (2/ 330)