کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ میرے بھائی اور بھابھی باہر ملک میں رہتے ہیں چند دن پہلے ان دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا کسی سابقہ تنازع پر اور اس کی بیوی نے بار بار طلاق کا مطالبہ کیا، میرے بھائی نے تین بار الفاظ طلاق بولے اس کو کچھ دیربعد میرے بھائی نے اس پر معافی مانگی اوراپنے رشتہ میں غمگین ہوئے، انکی ایک چند ماہ کی بیٹی ہے ، اب یہ طلاق ایک طلاق شمار ہو گی یا تین ؟ مہر بانی فرما کر ہمیں اس پر ایک فتوی دیں ، نیچے دیئے ہوئے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن یو، ایس ،اے کے مطابق بہت سے علماء اس پر متفق ہیں کہ اسے ایک طلاق شمار کیا جائے۔
واضح ہو کہ تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی گئی ہوں جیسے تجھے تین طلاق یا الگ الگ جملوں سے دی گئی ہوں جیسے تجھے طلاق ہے ، طلاق ہے، طلاق ہے، بہر صورت تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور حرمت مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے اس پرحضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ، تابعین عظام اور امت کے چاروں ائمہ امام اعظم ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیھم کا اتفاق ہے، اور علامہ ابن تیمیہ ؒجو آٹھویں صدی کے بعد تین طلاقوں کے ایک قرار دینے کے قائل اوّل ہیں ان کا بھی اس طرز عمل کے حرام ہونے کا فتوی ہے، لہذا اس سلسلہ میں کسی غیر مقلد سے تین طلاقوں کے بعد فتوی لیکر بغیر حلالہ شرعیہ کے باہم اکٹھےر ہنا آپس میں تعلقات قائم کر نا قرآن وسنت کی واضح نصوص کے خلاف اور باجماع حرام ہے ، اور اس طرح کے فتوؤں سے طلاق شدہ بیوی حلال نہیں ہوتی اور نہ ہی تین طلاقیں ایک بن جاتی ہیں ، اس لئے سائل کے بھائی اور بھا بھی پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور حلالہ شرعیہ کے بغیر ایک ساتھ رہنے سے اور میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنے سے اجتناب کریں۔
كما في صحيح البخارى: حدثني نافع، قال: كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، إِذَا سُئِلَ عَمَّنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا، قَالَ: «لَوْطلقت مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمرني بهذا، فَإِنْ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا حَرُمَتْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ - اھ (۷۹۲/۲)
وفی الدرالمختار: (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد اھ (3/233)۔
وفی ردالمحتار: (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى اھ (3/233)۔
وفی احکام القران: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا اھ (2/257)۔
وفی الھدایة : وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرہ او ثنتین فی الامہ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا اھ(2/399)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0