کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
مکتب میں قاری صاحب کا بغیر وضو کے طلبائے کرام کو فضائلِ اعمال کی تعلیم دینے سے ،کیا قاری صاحب گناہ گار ہوگا؟
فضائلِ اعمال کی تعلیم کے لئے وضو کرنا کوئی لازم نہیں ، اس لئے بغیر وضو کے فضائلِ اعمال کی تعلیم کرنے سے مذکور قاری صاحب اگرچہ گناہ گار تو نہیں ہوں گے ، مگر بہتر اور افضل یہ ہے کہ فضائلِ اعمال کی تعلیم کے لئے بھی وضو کیا جائے۔
کمافی رد المحتار : تحت(قوله : لا الكتب الشرعية) قال في الخلاصة : و يكره مس المحدث المصحف كما يكره للجنب و كذا كتب الأحاديث و الفقه عندهما و الأصح أنه لا يكره عنده . اهـ . قال في شرح المنية : وجه قوله إنه لا يسمى ماسا للقرآن ؛ لأن ما فيها منه بمنزلة التابع اهـ (1 /176)۔