السلام علیکم! حضرت میں آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کرنا چاہتا ہوں:
(1) قرآن پاک کو ہاتھ لگانے سے پہلے وضو کرنے کی شرط کس درجے میں آتی ہے ، فرض ، سنت یا مستحب ؟
(2) کیا بغیر وضو قرآن کو ہاتھ لگانے والا گنہگار ہو گا ؟
(3) کیا وضو کے بغیر قرآن کو ہاتھ لگانے کی شرط میں نابالغ بچوں یا حفظ کے طلبا کے لئے رعایت اور گنجائش ہے؟
(4) چھوٹے بچوں کو قرآن سکھانے اور شوق پیدا کرنے کے لئے سپارے دیے جائیں تو اس کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟
(5) حالتِ جنابت میں حفظ اور مدرسے کی طالبات قرآن کی تلاوت اور چھو سکتی ہیں یا آیات کو توڑ کر پڑھ سکتی ہیں؟
(6) حالتِ جنابت میں حفظ اور مدرسے کی طالبات کیا دل میں قرآن سے دیکھ کر پڑھ سکتی ہیں یا موبائل پر دیکھ کر پڑھ سکتی ہیں؟ حضرت مسئلہ الہدی انٹرنیشنل کی ایک طالبہ کو ریفرنس کے ساتھ سمجھانا ہے ، گزارش ہے کہ
احادیث اور صحابہ کرام کے اقوال کے ساتھ وضاحت کریں ، اللہ ہمیں سلفِ صالحین کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے توفیق عطا فرمائے ۔
واضح ہو کہ مصحفِ قرآنی ہو یا کسی بھی جگہ لکھی ہوئی آیت کریمہ ، اسکو ہاتھ لگانے سے پہلے طہارت حاصل کرنا واجب ہے ، اگر کسی بالغ شخص نے بغیر وضو یا جنابت یا حیض و نفاس کی حالت میں قرآنِ مجید یا کسی ایک آیتِ کریمہ کو چھو لیا تو وہ گناہ گار ہو گا ، البتہ اگر نابالغ بچے بغیر وضو کے پاک ہاتھوں سے قرآن مجید کو چھو لیں تو اس میں حرج نہیں ، مگر ان کو بھی وضو کی عادت ڈالنی چاہیئے ، اسی طرح حائضہ و نفاس والی عورت خواہ قرآن پاک یاد کر رہی ہو یا عام معمول کے مطابق تلاوت کرتی ہو تلاوت مصحف سے ہو یا موبائل کے ذریعے ، بہر حال اس کے لئے بہ قصدِ تلاوت قرآن کریم پڑھنا یا چھوناجائز نہیں ، حفظ کرنے والی بچیوں کو چاہیئے کہ وہ ناپاکی کے ایام میں زبان ہلائے بغیر دل میں ہی گردان جاری رکھیں یا کسی دوسری بچی سے قرآن سنے یا قرآن کو ہاتھ لگائے بغیر آیت کو توڑ توڑ کر پڑھتی رہے ، البتہ جنبی یا حائضہ عورت قرآنی دعائیں بغرضِ ذکر و دعا پڑھ سکتی ہے۔
کما في احكام القرآن للجصاص : قوله تعالى ( انه لقرآن كريم في كتاب مكنون لا يمسه الا المطهون ) روى عن سليمان انه قال لا يمس القرآن الا المطهرون فقرأ القرآن و لم يمس المصحف حين لم يكن على وضوء و عن انس ابن مالک فی حدیث اسلام عمر قال فقال لأخته أعطوني الكتاب الذي كنتم تقرون فقالت انك رجس و انه لا يمسه الا المطهرون فقم فاغتسل أو توضأ فتوضأ ثم أخذ الكتاب فقرا و ذكر الحدیث و عن سعد انه امر ابنه بالوضوء لمس المصحف و عن ابن عمر مثله وذکرہ الحسن والنخعی مس المصحف علیٰ غیر وضوء الخ (3/415/416)۔
و فی الدر المختار : (و لا) يكره (مس صبي لمصحف و لوح) و لا بأس بدفعه إليه و طلبه منه للضرورة اھ (1/174)۔
و فی الفتاوی الھندیة : و يستحب للحائض إذا دخل وقت الصلاة أن تتوضأ و تجلس عند مسجد بيتها تسبح و تهلل قدر ما يمكنها أداء الصلاة لو كانت طاهرة ، كذا في السراجية (الیٰ قوله) (و منها) حرمة قراءة القرآن لا تقرأ الحائض و النفساء و الجنب شيئا من القرآن و الآية وما دونها سواء في التحريم على الأصح إلا أن لا يقصد بما دون الآية القراءة مثل أن يقول الحمد لله يريد الشكر اھ(1/38)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0