میرا سوال ہے کہ میرے شوہر نے ایک قادیانی لڑکی سے دوسری شادی مجھ سے چھپا کر کی ہے اور خودقادیانی بیعت نامے پردستخط کر لیا ہے۔ اب اس کاکہنا ہے کہ میں دل سے مسلمان ہوں اور واپس میں مذہب میں آتا ہوں اورپہلی شادی بھی بحال کرنا چاہتا ہوں۔ اس مسئلے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
سائلہ کا بیان اگر واقعی در ست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی و دروغ گوئی سے کام نہ لیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کا شوہر واقعۃً قادیانی مذہب اختیار کر چکا ہو تو وہ مرتد ہو کر دائرہ اسلام سے خارج ہو چکا ہے اور دونوں کا نکاح بھی ختم ہو چکا ہے ،لہٰذ اسائلہ عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہے ، البتہ سائلہ کا شوہر دوبارہ توبہ تائب ہو کر اسلام قبول کرے توسائلہ اس کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے ، اورمذکورہ قادیانی لڑکی اگر مسلمان ہو تو نکاح کے بعد اس بھی اپنے عقد میں رکھ سکتا ہے۔
في الدر المختار: (وارتداد أحدهما) أي الزوجين (فسخ) فلا ينقص عددا (عاجل) بلا قضاء (فللموطوءة) ولو حكما (كل مهرها) لتأكده به (ولغيرها نصفه) لو مسمى، أو المتعة (لو) (ارتد) وعليه نفقة العدة (ولا شيء من المهر والنفقة سوى السكنى) (به يفتى) اھـ (۳/۱۹۴)۔
وفي الفتاوی الشامية: (قولہ:بلا قضاء)ٲي بلا توقف علی قضاء القاضي، وکذا بلا توقف علی مضي مدۃ في المدخول بھا کما في البحر اھ (۳/۱۹۴)۔
وفي الفتاوی الھندية: ارتد أحد الزوجين عن الإسلام وقعت الفرقة بغير طلاق في الحال قبل الدخول وبعده، ثم إن كان الزوج هو المرتد فلها كل المهر إن دخل بها ونصفه إن لم يدخل بها اھـ (۱/۳۳۹)۔
وفي البحر الرائق شرح کنز الدقائق: وإن أخبرت المرأة أن زوجها قد ارتد لها أن تتزوج بآخر بعد انقضاء العدة في رواية الاستحسان وفي رواية السير ليس لها أن تتزوج قال شمس الأئمة السرخسي: الأصح رواية الاستحسان (ٳلی قوله) قال في جامع الفصولين وتعتد بثلاث حيض لو حرة ممن تحيض وبثلاثة أشهر لو آيسة، أو صغيرة وبوضع الحمل لو حاملا اھـ (۳/۲۱۵) واللہ أعلم بالصواب!