میں ایک گورنمنٹ ادارے میں سول انجینئر کے طور پر کام کرہا ہوں، مختلف کمپنیاں ہمارے ساتھ کام کرتی ہیں مثلاً ایک ٹھیکدار ایک کروڑ روپے روڈ تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کرتا ہے ، وہ کام کرتا ہے اور ہم اس کو قسطوار ادائیگی کرتے ہیں، ایک بل ۳۰ لاکھ روپے دیتے ہیں اس پیمنٹ سے ادارہ تین فیصد بل سے کاٹ لیتا ہے ، کچھ رقم مجھے دیتا ہے اور کچھ دیگر اسٹاف والوں کو ، اور میں روڈ منصوبہ کی نگرانی کر رہا ہوں، کیا شریعت کی روشنی میں یہ پیسے میرے لئے درست ہے ؟ ہم اس تین فیصد کو کمیشن کہتے ہیں۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ حکومتی ادارے اور ٹھیکدار کے درمیان معاملہ طے ہونے کے بعد ادارہ ٹھیکدار سے ادا کئے جانے والے بل میں سے تین فیصد کی کٹوتی کس بنیاد پر کرتے ہیں؟ اگر ادارہ بلا کسی عوض محض ٹھیکہ دینے کی وجہ سے ٹھیکدار سے کمیشن کے نام پر تین فیصد کی کٹوتی کرتا ہو، تو یہ در حقیقت رشوت ہے جس کا لینا شرعا ناجائز اور حرام ہے، البتہ اگر مذکور کمیشن وصول کرنے کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی وضاحت کر کے سوال دوبارہ ای میل کر دیا جائے، اس پر غور فکر کے بعد ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: أخذ القضاء برشوة) بتثليث الراء (الى قوله) الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب اھ (5/ 362)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0