کوئی شخص چار دن کام کرتا ہے اور ان چار دنوں کا وہ ٹیکس بھی ادا کرتا ہے ، اس کے بعد ”۳‘‘ دن چھٹی ہوتی ہے، وہ کہتا ہے کہ ان تین دنوں میں، میں کیا کرونگا، دو یا ایک دن کام کرنے کا ارادہ ہے ، لیکن پیسے کیش ملینگے، اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ ان دو یا ایک دن کا ٹیکس نہ دے تو کیا یہ جائز ہے ؟ جبکہ ایک دوسرے عالم نے فرمایا، کہ اگر ٹیکس نہ دے تو یہ بھی درست ہے،کیونکہ یہ آپ کی کمائی ہے ، اور ٹیکس لینے والے اسے کہاں خرچ کرتے ہیں اس کا کوئی علم نہیں ہے ، لہذا آپ ٹیکس نہ دیں ، اب اگر وہ شخص ٹیکس نہ دے، تو دوسری طرف یہ شخص ان چار دنوں کا ٹیکس بھی دیتا ہے ، اور واپس اس کو چار دن کام کے حساب سے یونیورسل کریڈٹ (ذاتی منافع وآمدنی کے حساب سے حکومتی تعاون allownce) بھی ملتا ہے ، تو اب اس کو مز دوری ٹیکس لینا جائز ہے ؟ لہذا میں نے مشورہ دیا کہ نہ لے، لیکن وہ کہنے لگا کہ اس طرح کرنے سے پھر اس ملک میں مسئلہ بنے گا وہ کہیں گے کہ کیوں نہیں لیتا، اور وہ ڈائرکٹ اس کے بینک میں آئیں گے ، اور اگر ان’’ دو“ یا ’’ایک‘‘ دن کے دوران کام نہ کرے تو قرض ہونے کی وجہ مال کی ضرورت ہے ، اور یادر ہے کہ وہ شخص پہلے ”۵ ‘‘دن کام کرتا تھا، اور تنخواہ بھی اچھی تھی ، اور پورا ٹیکس دیتا تھا، لیکن اب کام والوں نے کام کم کر کے تنخواہ بھی کم کر دی تو مجبور ہے۔
شخصِ مذکور جتنے دن کام کرتا ہے ، اتنے دن کا ٹیکس دینا اور اس کے تناسب سے حکومتی تعاون لینا اس کے لیے جائز ہے، جبکہ بقیہ ایام میں اگر اسے کام کی ضرورت ہو تو اس کا کام کرنا، اور اس کی کمائی استعمال میں لانا بھی جائز ہے ، چاہے وہ ٹیکس ادا کرے یا نہیں، تاہم مذکور” ۲ ‘‘یا ایک دن کام کرنے کی وجہ سے یونیور سل کریڈٹ کے طور پر قانوناً الاؤنس نہ دیا جاتا ہو، اور مذکور محض غلط بیانی کر کے مذکو را الاؤنس لیتا ہو تو یہ اس کے لئے جائز نہیں ، لہذا اس طرح کی آمدنی سے اجتناب لازم ہے۔
في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: على المسلمين أن يتعاونوا مع الحاكم في كل ما يحقق التقدم والخير والازدهار في جميع المجالات الخارجية بالجهاد في المال والنفس، والداخلية، بزيادة العمران وتحقيق النهضة الصناعية والزراعية والأخلاقية والاجتماعية، وإقامة المجتمع الخيِّر، وتنفيذ القوانين والأحكام الشرعية والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، سواء فيما يمس المصلحة العامة أم المصلحة الخاصة (3)، وتقديم النصيحة، وبذل الجهد بتقديم الآراء والأفكار الجديدة التي تؤدي إلى النهضة والتقدم، وتوعية الناس والدعوة لها في السلم والحرب. ومن المعلوم أن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر من أصول الإسلام الأساسية المقررة بالتضامن بين الحكومة والأفراد؛ لأن في ذلك إقامة أمر الله وهدم كل ما يخالف الإسلام اھ (8/ 6197)-
وفى الدر المختار: (ومن دعاه الإمام إلى ذلك) أي قتالهم (افترض عليه إجابته) لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض فكيف فيما هو طاعة بدائع (لو قادرا) (4/ 264)-
وفى حاشية ابن عابدين: (قوله: افترض عليه إجابته) والأصل فيه قوله تعالى {وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال - صلى الله عليه وسلم - «اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع» وروي «مجدع» (4/ 264) -
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0