السلام علیکم! محترم! ہر سال کی طرح اس سال بھی سوال ہے کہ تکبیر تشریق کی حقیقت کیا ہے ؟ جب کے نہ تو اس کے بارے میں کوئی احکام ،قرآن حکیم میں اور نہ ہی احادیثِ نبوی میں موجود ہیں، پھر اسے واجب کا درجہ کیسے دیا گیا ہے ؟
9 ذی الحجہ کی فجر سے تیرہ ذی الحجہ کی عصر تک تکبیرات تشریق کا پڑھنا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین سےثابت ہے اور یہ ثبوت التزام اور تاکید کے ساتھ ثابت ہے، اس لیے اس کو فقہاء نے واجب کادرجہ دیا۔
کما فی سنن دار قطنی : عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُكَبِّرُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ حِينَ يُسَلِّمُ مِنَ الْمَكْتُوبَاتِ» اھ (2/ 390)۔
و فی الاثار لمحمد بن الحسن : عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ «كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، اھ (561)۔