مفتی صاحب ! قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت موجود ہے یا احادیث میں کوئی ایسی حدیث جس میں اس بات کی ترغیب دی گئی ہو کہ اگر کسی صاحبِ حیثیت مسلمان کے پڑوس، جان پہچان یارشتہ داروں میں کوئی نہایت غریب اور نادار فرد موجود ہو تو وہ صاحبِ حیثیت شخص دوسری بار یا تیسری بار حج اور عمرہ کے لیےجانے کی بجائے اس غریب اور نادار کو وہ رقم دے دے اور حج اور عمرہ کے لیے نہ جاوے ؟ اگر ایسی صورت کسی کو پیش آجائے تو پھر وہ صاحبِ استطاعت کیا عمل اختیار کرے؟ نیز ایسی کوئی حدیث موجود ہے جس میں صاحبِ استطاعت لوگوں کو بار بار حرمین شریفین عمرہ اور حج کے لیے حاضری کی ترغیب دی گئی ہو ؟ برائے مہربانی ایسی حدیث غریب کی نشاندہی فرمادیں؟
واضح ہو کہ حرمین شریفین کی بار بار زیارت کرنابہت بڑی سعادت مندی کی بات ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کےایک حدیث مبارکہ سے اس کی ترغیب بھی معلوم ہوئی ہے، جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما "اسی طرح غریب اور نادار لوگوں کے ساتھ تعاون کرنا بھی بہت بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے ۔ جس کی حادیث مبارکہ میں بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے، لیکن احادیث مبارکہ میں ہماری نظر سے ایسی کوئی حدیث نہیں گزری، جس میں اس بات کی صراحت ہو کہ نادار اورغریب پڑوسیوں کی موجودگی میں حرمین شریفین کی زیارت کرنے کے بجائے ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، تاہم بہتر یہ ہے کہ جس شخص نے ایک مرتبہ فریضہ حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کر لی ہو، اس کے لیے دوبارہ حرمین شریفین کی حاضری کے بجائے غریب و نادار لوگوں کی مدد میں اس رقم کو لگانا چاہیے۔
کما فی سنن أبی داؤد : عن ابن عباس أن الأقرع بن حابس، سأل النبي صلى الله ع عليه وسلم فقال: يا رسول الله الحج فی كل سنة أو مرة واحدة قال: بل مرة واحدة، فمن زاد فهو تطوع الى قوله و عن زيد بن أسلم، عن ابن لأبي واقد الليثي، عن أبيه، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لأزواجه فی حجةالوداع : هذه ثم ظهور الحصر » اھ(1/447).
و فیه أیضاً : عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من نفس عن مسلم كربة من كرب الدنيا، نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة، ومن يسر على معسر يسر الله عليه فی الدنيا والآخرة، ومن ستر على مسلم ستر الله عليهفی الدنيا والآخرة، والله فی عون العبد ما كان العبد فی عون أخيه». (2/328) .
و فی مرقاة المفاتيح العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة» -عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم(5/383)۔
و فی الشامية تحت : قوله ورجح فی البزازية أفضلية (الحج) الى قوله الرحمتي والحق التفصيل فما كانت الحاجة فیه أكثر والمنفعة فیه أشمل فهو الأفضل كما ورد حجة أفضل من عشر غزوات وورد عكسه فیحمل على ما كان أنفع، فإذا كان أشجع وأنفع فی الحرب فجهاده أفضل من حجه، أو بالعكس فحجه أفضل، وكذا بناء الرباط إن كان محتاجا إليه كان أفضل من الصدقة وحج النقل وإذا كان الفقير مضطرا أو من أهل الصلاح أو من آل بيت النبي - صلى الله عليه وسلم - فقد يكون إكرامه أفضل من حجات وعمر وبناء ربط. كما حكى فی المسامرات عن رجل أراد الحج فحمل ألف دينار يتأهب بها فجاءته امرأة فی الطريق وقالت له إني من آل بيت النبي - صلى الله عليه وسلم - وبي ضرورة فأفرغ لها ما معه، فلما رجع حجاج بلده صار كلما لقي رجلا منهم يقول له تقبل الله منك، فتعجب من قولهم. فرأى النبي - صلى الله عليه وسلم - فی نومه وقال له: تعجبت من قولهم تقبل الله منك؟ قال نعم يا رسول الله قال: إن الله خلق ملكا على صورتك حج عنك وهو يحج عنك إلى يوم القيامة بإكرامك لامرأة مضطرة من آل بيتي فانظر إلى هذا الإكرام الذي ناله لم يتله بحجات ولا ببناء ربط (2/621)۔
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0