السلام علیکم مفتی صاحب!
ایک سائل نے سوال کیا جس کا جواب مطلوب ہے سوال : کینڈا میں ٹائم کی بڑی اہمیت ہے کسی بھی جاب پر اگر آپ ایک ماہ میں تین مرتبہ دیر سے آجائیں تو وارننگ کے ساتھ تنخواہ بھی کاٹی جاتی ہے، کیا یہ شریعت کے عین مطابق ہے آج کل یہاں مساجد اور مدارس میں ٹائم کے بارے کے میں کافی مسئلہ بنا ہوا ہے روزانہ کی بنیاد پر استاد لیٹ آنے کا معمول ہے، بچے بغیر استاد کے کلاس میں بیٹھے ہوتے ہیں، جس پر والدین کی طرف سے برہمی کا اظہار ہوتا ہے اور پھر فیس دینے کے مواقع پر کافی مسائل ہوتے ہیں، آپ سے درخواست ہے شریعت کے احکام کے مطابق جواب عطا فرمائیں ۔کیا استاد کے لیٹ آنے پر ان کی تنخواہ کاٹی جاسکتی ہے اور کیا شریعت کے مطابق پورا ماہ لیٹ آنے کے باوجود پوری تنخواہ لینا جائز ہے ؟ جب کہ مسجد اور مدارس کے دوسرے اسٹاف کے کام کرنے والوں کے یہاں کے قانون کے مطابق چھٹی اور لیٹ آنے پر پیسے کاٹے جاتے ہیں۔
آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس بارے میں مکمل جواب دیں تاکہ اس مسئلے کا صحیح حل نکل سکے۔
۱۔ جی ہاں مذکو رہ ضابطہ شریعت کے عین مطابق ہے، نیز ادارہ کے اصول کے مطابق تاخیر کی صورت میں ملازم کی تنخواہ سے غیر حاضری کے بقد ر کٹوتی بھی شرعاً جائز ہے۔
۲۔ مساجد اور مدارس کے اساتذہ پر بھی وقت کی پابندی شرعاً لازم ہے، بلا عذر تاخیر سے آنے کا معمول بنا لینا، اور متعلقہ ذمہ داری سے غفلت برتنا ان کے لئے بھی شرعاً جائز نہیں، جبکہ ادارے کی طرف سے ان کو پابند کرنے کے لئے تاخیر سے آنے کی صورت میں تنخواہ کی جائز کٹوتی کا ضابطہ بنانا اور اس کے مطابق تنخواہ کاٹنا بھی بلاشبہ درست ہے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)۔
و في الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا اھ (6/ 69)۔
وفيه ايضاً: وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل اھ (6/ 70)۔
و في قواعد الفقه: 25 قاعدة استحقاق الأجرة بعمل لا بمجرد قول ( سير ) (ص: 57)۔
و في الفتاوى الهندية: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي اھ (4/ 413)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0