کیا فرماتے ہیں اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پاس ایک کمپنی کی ریٹائلر سم ہے، جس سے میں ایزی لوڈ ، بلوں کی ادائیگی وغیرہ کر تا رہتا ہوں، جس کے بارے میں مندرجہ ذیل سوالات کا جواب چاہئیے:
۱۔ ایک گاہک مجھ سے کہتا ہے کہ میری سم سے اپنی ریٹائلر میں کچھ پیسے نقل کریں اور مجھے نقد رقم دے دیں، اس پر کمپنی گاہک سے ٹیکس لیتی ہے (100 روپے پر 20 روپے) اس کام کے عوض کمپنی مجھے چند روپے بطور کمیشن دیتی ہے کیا یہ کمیشن جائز ہے کہ ناجائز ؟
۲۔ میں اپنی سم میں رقم جمع کرتا ہوں، پھر کسی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرتا ہوں یا بل کی ادائیگی کرتا ہوں تو کمپنی اس پر مجھے کمیشن دیتی ہے کیا یہ جائز ہے کہ نا جائز ؟
۳۔ موبائل میں ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانے پر کمپنی کچھ فری منٹ، اور انٹرنیٹ دیتی ہے، کیا یہ قرض پر نفع لینے کے زمرے میں آتا ہے؟
۱، ۲۔ مسئولہ دونوں صورتوں میں سائل کے لیے کمیشن لینا شرعاً جائز ہے۔
۳۔ اکاؤنٹ کھلوانے پر ملنے والی مذکورہ سہولت اگر کسی شرط مثلاً اکاؤنٹ میں مخصوص مقدار میں رقم کی موجودگی وغیرہ کے ساتھ مشروط نہ ہو تو یہ کمپنی کی طرف سے نئے کسٹمر کے لئے انعام ہے، جس کا استعمال شرعاً جائز ہے، اور اگر مخصوص مقدار میں رقم کی موجودگی پر یہ رعایت دی جاتی ہو، تو قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے یہ سود کے زمرے میں داخل ہے، جو شرعاً نا جائز اور حرام ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي اھ (4/ 413)-
كما في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه وأما تمليك الدين من غير من عليه الدين فإن أمره بقبضه صحت لرجوعها إلى هبة العين (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة نهاية مندوبة وقبولها سنة قال - صلى الله عليه وسلم - «تهادوا تحابوا» . (5/ 687)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0