السلام علیکم مفتی صاحب!
مجھے ایک انشورنش کمپنی سے نوکری کی پیشکش کی گئی ہے ،کمپنی کا نام” ای، ایف، یو “ہےجو کہ پاکستان کی ایک مشہور کمپنی ہے،مجھے سیلز کی جاب دی جائے گی،علماءِ کرام انشورنس کمپنی میں نوکری کرنے کو شرعی طور پر حرام تصور کرتے ہیں، کیونکہ اس میں سود اور جوا کا عنصر شامل ہے،”ای ، ایف، یو“، کمپنی کا ایک تکافل پروگرام ہے، جس کو علماء نے جائز قرار دیا ہے، میں نے اس سال مئی میں اپنی تعلیم مکمل کی، مگر ابھی تک نوکری نہ مل سکی۔ یہ پہلی پیشکش کی گئی ہے۔ میں ابھی بیروزگار ہوں اور نوکری کی اشد ضرورت ہے، میرے درجِ ذیل سوالات ہیں:
(1) :کیا میرے لئے یہ نوکری کرنا جائز ہے ؟ کیونکہ موجودہ ملکی حالات میں دوسری نوکری کا معلوم نہیں کہ دوسری نوکری کب ملے گی؟
(2): کیا میں دوسری نوکری ملنے تک یہ نوکری کر سکتا ہوں ؟ اور جیسے ہی دوسری نوکری ملے میں یہ نوکری فوراً چھوڑ دوں؟
(3) :جس طرح آپ کی رائے ہے کہ بینک کی نوکری کی جا سکتی ہے، اگر وہ بالواسطہ سود سے وابستہ نہ ہو، جیسا کہ بینک کیشیئر یا سیکیورٹی گارڈ کی نوکری، کیا اس طرح انشورنس کمپنی میں بھی نوکری کی جا سکتی ہے ؟ جس کا واسطہ، تعلق سود کی خرید اور فروخت سے نہ ہو۔
(4):کچھ علماء یہ فرماتے ہیں کہ آپ نوکری کر لو ،اور یہ تصور کر لیں کہ آپ کو جو تنخواہ مل رہی ہے، وہ کمپنی کی حلال کمائی سے مل رہی ہے، کیونکہ کمپنی کی ساری انکم سود سے نہیں آتی، یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ پلیز اس پر راہنمائی فرمائیں۔ اللہ آپ کو اسکا آجر عطا فرمائے! میں آپکے جواب کا منتظر ہوں۔
انشورنس کمپنی میں ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سود کی لین دین یا دیگر حرام معاملات سے ہو وہ و جائز نہیں، (چاہے اس کی تنخواہ کمپنی کے حلال آمدنی سے دی جاتی ہو) اس لئے ایسی ملازمت اختیار کرنے سے اجتناب لازم ہے۔ البتہ اگرفی الوقت سائل کو کوئی حلال ذریعۂ آمدن میسر نہ ہو تو مجبوری کی صورت میں اس ملازمت کو ناجائز سمجھتے ہوئے اُسے اختیار کرنے کی گنجائش ہے ، مگر جیسے ہی جائز ذریعۂ آمدن کا انتظام ہو جائے، اُسے فوراً ترک کرنا لازم ہوگا ، اور اسکے ساتھ ساتھ اپنے اس عمل پر توبہ و استغفار بھی کرے۔ جبکہ انشورنس کمپنی کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی لین دین اور دیگر نا جائز معاملات سے نہ ہو یا انشورنس کمپنی کا ذیلی ادارۂ تکافل جو با قاعده مستند مفتیانِ کرام کے زیر نگرانی اپنے معاملات سر انجام دیتا ہو ، تو اس میں ملازمت اختیار کرنے کی شرعاً گنجائش ہے ۔
كما في الدر المختار: فإذا ثبت كراهة لبسها للتختم ثبت كراهة بيعها وصيغها لما فيه من الإعانة على ما لا يجوز وكل ما أدى إلى ما لا يجوز لا يجوز اھ (6/ 360)۔
وفي الأشباه والنظائر لابن نجيم: إذا تعارض مفسدتان روعي أعظمهما ضررا بارتكاب أخفهما". قال الزيلعي في باب شروط الصلاة: ثم الأصل في جنس هذه المسائل أن من ابتلي ببليتين، وهما متساويتان يأخذ بأيتهما شاء، وإن اختلفا يختار أهونهما؛ لأن مباشرة الحرام لا تجوز إلا للضرورة اھ (ص: 76)۔
وفيها أیضاً: السادسة: الحاجة تنزل منزلة الضرورة، عامة كانت أو خاصة، ولهذا: جوزت الإجارة على خلاف القياس للحاجة اھ (ص: 78)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0