مجھے یہ پوچھنا ہے میرے شوہر شدید غصے کی حالت میں تھا انکی عقل پے غصہ غالب تھا، اور زبر دستی ان کو غصہ دلایا گیا ،اور اکسایا گیا اس چیز کیلئے انکو اس شدید حالات میں لایا کہ انکو خود پر قابو نہیں رہا ، اور وہ اپنے آپے سے باہر ہوگئے، انکا کوئی ارادہ نہیں تھا نہ وہ طلاق دینا چاہتے تھے ، لیکن انھوں نے اس شدید غصہ میں تین طلاق کہہ دیئے تو کیا طلاق واقع ہو گی۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا سائلہ کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ اسے شوہر نے الفاظ طلاق تین مرتبہ کہہ دیے ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا جبکہ سائلہ ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال تعالى: (فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره) (البقرة الآية : 230)۔
في الدر: ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران ( ولو عبدا او مكرها) فان طلاقه صحيح لا اقراره با الطلاق(235/3) والله اعلم بالصواب
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0