السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب اللہ آپ کو صحت وکامیابی نصیب کرے اور عمر دراز کرے، براہِ مہرابانی رہنمائی فرمائیں۔ فیس بک پر میرا ایک گروپ ہے، جس میں سرکاری آرڈرز اور نوٹفکیشن ارسال (شیئر) ہوتے ہیں، گروپ کو چلانے کے لئے وقت دینا ہوتا ہے، معلومات حاصل کرکے پوسٹ کرنی ہوتی ہیں، اور بہت سی تگ دو کرنی پڑتی ہے، اسی وجہ سے فیس بک نے گروپ ایڈمن کو ممبر سے فیس کی جازت دی ہے کہ اس گروپ کا ایڈمن کچھ کماسکے، میں ایک گورنمنٹ فاضل ہوں سول سیکریٹ پشاور میں ، اور پوچھنا یہ تھا اکثر لوگ مجھ سے معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے مجھے از خود ڈیپارٹمنٹ جانا ہوتا ہے یا کسی کو درخواست کرنی ہوتی ہے یا کال وغیرہ کرنی ہوتی ہے، جس میں مجھے جان مال اور وقت لگانا ہوتاہے، تو کیا میں اس کی کوئی مناسب فیس لے سکتا ہوں، کیونکہ کوئی ایک شہر سے دوسرے شہر معمولی کام سے جائے تو اس کاجان و مال اور وقت بھی لگتا ہے اور کام بھی نہیں ہوتا، اگر ہوجائے تو بہت تکلیف کے بعد ۔اگر سوال نمبر 1 کا جواب ہاں میں ہے تو دوسرا یہ کہ اگر ہر ڈیپارٹمنٹ میں اپنا نمائندہ بنالوں اور مجھے اس ڈیپارٹمنٹ سے کچھ معلومات چاہیئے یا کوئی کام کرنا ہو کسی کی درخواست پر، تو کیا میں درخواست کرنے والے سے کچھ فیس لیکر اپنے نمائندے کو اس میں سے کام کے لئے کچھ ادا کرسکتا ہوں؟
واضح ہو کہ سائل کے لئے معلومات حاصل کر کے دوسروں تک پہنچانے کے بعد اپنے کام کے بقدر سائلین سے فیس لینا جائز اور درست ہے اسی طرح ہر ڈیپارٹمنٹ میں اپنا نمائندہ مقرر کر کے کام کے بعد اس اجرت کی دینا بھی جائز ہے، تاہم لوگوں کی مجبوری اور لاعلمی سے غلط فائدہ اٹھانا اپنے کام سے زائد فیس لینا کسی طرح جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: إن دلني على كذا فله كذا فدله فله أجر مثله إن مشى لأجله الخ (6/95)۔
و فی ردالمحتار: تحت (ان دلنی) (الی قولہ) وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه: إن دللتني على كذا فلك كذا إن مشى له فدله فله أجر المثل للمشي لأجله؛ لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل، وإن دله بغير مشي فهو والأول سواء. الخ(6/95)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قولہ فالعبرۃ لعادتھم) ای لعادۃ اھل السوق فان کانوا یعملون باجر یجب اجر المثل والا فلا الخ (6/42)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0