اگر ہم کسی کے گھر پر تراویح پڑھارہے ہیں تو وہاں پیسے لینا جائز ہے؟ پہلے سے طےشدہ نہیں ہوتے،کپڑے مٹھائی اوردعوت بھی ہوتی ہے، یہ سب کیساہے ؟
تراویح میں قرآن پاک سنانے والے کو اجرت کے طور پر کچھ دینا لینا ناجائز و حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے، البتہ بغیر کسی لالچ کے کوئی اپنی مرضی سے حافظ صاحب کو کوئی ہدیہ پیش کرے، تو اس کی گنجائش ہے اور یہی حکم مٹھائی اور کپڑے کا بھی ہے، جبکہ آنے جانے کا کرایہ لینا دینا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی رد المحتار: ويمنع القارئ للدنيا، والآخذ والمعطي آثمان. فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون - اهـ(6/ 56)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0