میرا سوال یہ ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد یا کسی کے غم موقع پر اُس کے گھر تعزیت کے لئے تین دن کے بعد جانا کیسا ہے؟ اگر کوئی حرج نہیں ,تو کتنے عرصے تک جا سکتے ہیں؟ سنا ہے کہ تین دن کے بعد نہیں جا سکتے ، وہ پرانی باتوں کو یاد دلانے کی طرح ہے، کیا یہ صحیح بات ہے؟
بلا عذر , معلوم ہوتے ہوئے کسی کے انتقال پر تعزیت کے لئے تین دن بعد جانا مکروہ ہے، تاہم اگر کوئی سفر پر ہو یا اُس کو موت کا علم نہ ہو , یا اسی قسم کا کوئی اور عذر ہو ، جس کی بنیاد پر وہ تین دن کے اندر نہ جا سکا ہو تو وہ اس کے بعد بھی جاسکتا ہے۔
في حاشية ابن عابدين : (قوله و تكره بعدها) لأنها تجدد الحزن منح و الظاهر أنها تنزيهية ط (قوله إلا لغائب) أي إلا أن يكون المعزي أو المعزى غائبا فلا بأس بها جوهرة . قلت : و الظاهر أن الحاضر الذي لم يعلم بمنزلة الغائب اھ (2/ 241)-
و فى الفتاوى الهندية : و وقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام و يكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها اھ (1/ 167)-