موت

تعزیت کے لیے تین دن کے بعد جانا

فتوی نمبر :
4073
| تاریخ :
2008-03-22
عبادات / جنائز / موت

تعزیت کے لیے تین دن کے بعد جانا

میرا سوال یہ ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد یا کسی کے غم موقع پر اُس کے گھر تعزیت کے لئے تین دن کے بعد جانا کیسا ہے؟ اگر کوئی حرج نہیں ,تو کتنے عرصے تک جا سکتے ہیں؟ سنا ہے کہ تین دن کے بعد نہیں جا سکتے ، وہ پرانی باتوں کو یاد دلانے کی طرح ہے، کیا یہ صحیح بات ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بلا عذر , معلوم ہوتے ہوئے کسی کے انتقال پر تعزیت کے لئے تین دن بعد جانا مکروہ ہے، تاہم اگر کوئی سفر پر ہو یا اُس کو موت کا علم نہ ہو , یا اسی قسم کا کوئی اور عذر ہو ، جس کی بنیاد پر وہ تین دن کے اندر نہ جا سکا ہو تو وہ اس کے بعد بھی جاسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في حاشية ابن عابدين : (قوله و تكره بعدها) لأنها تجدد الحزن منح و الظاهر أنها تنزيهية ط (قوله إلا لغائب) أي إلا أن يكون المعزي أو المعزى غائبا فلا بأس بها جوهرة . قلت : و الظاهر أن الحاضر الذي لم يعلم بمنزلة الغائب اھ (2/ 241)-
و فى الفتاوى الهندية : و وقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام و يكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها اھ (1/ 167)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبید اللہ اسحاق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4073کی تصدیق کریں
0     719
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی عذر کی وجہ سے اہلِ میت سے تین دن کے بعد تعزیت کا حکم

    یونیکوڈ   موت 0
  • نزع کے وقت تلقین کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   موت 0
  • تعزیت کے لیے تین دن کے بعد جانا

    یونیکوڈ   موت 0
  • کیا نیک مسلمان کو بھی موت کی سختی محسوس ہوتی ہے؟

    یونیکوڈ   موت 0
  • میت کو غسل دیتے اور کفن پہناتے وقت اس کی روح کہاں ہوتی ہے؟

    یونیکوڈ   موت 0
  • موت سے پہلے کفن اور قبر تیار کرنا شرعا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   موت 0
Related Topics متعلقه موضوعات