موت

نزع کے وقت تلقین کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
59824
| تاریخ :
2009-06-25
عبادات / جنائز / موت

نزع کے وقت تلقین کی شرعی حیثیت

نزع کے وقت پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کا باآوازِ بلند کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادت پڑھنا سنت ہے یا مستحب یا واجب؟ براہِ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی شخص کے حالتِ نزع کے وقت موجود لوگوں کا بغرضِ تلقین کلمہ شہادت پڑھنا مستحب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفتاوى الهندية: ولقن الشهادتين، وصورة التلقين أن يقال عنده في حالة النزع قبل الغرغرة جهرا وهو يسمع أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله ولا يقال له قل ولا يلح عليه في قولها مخافة أن يضجر فإذا قالها مرة لا يعيدها عليه الملقن إلا أن يتكلم بكلام غيرها، كذا في الجوهرة النيرة. وهذا التلقين مستحب بالإجماع(1/ 157)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59824کی تصدیق کریں
0     915
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی عذر کی وجہ سے اہلِ میت سے تین دن کے بعد تعزیت کا حکم

    یونیکوڈ   موت 0
  • نزع کے وقت تلقین کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   موت 0
  • تعزیت کے لیے تین دن کے بعد جانا

    یونیکوڈ   موت 0
  • کیا نیک مسلمان کو بھی موت کی سختی محسوس ہوتی ہے؟

    یونیکوڈ   موت 0
  • میت کو غسل دیتے اور کفن پہناتے وقت اس کی روح کہاں ہوتی ہے؟

    یونیکوڈ   موت 0
  • موت سے پہلے کفن اور قبر تیار کرنا شرعا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   موت 0
Related Topics متعلقه موضوعات