میرے دوست نے ایک سوال کیا ہے ، براہِ مہربانی اس کا جواب عنایت فرمائیں:
میرے دوست جس کمپنی میں کام کرتے ہیں، ان کی طرف سے میرے دوست کو زیادہ سے زیادہ 37000 ماہانہ کرایہ پر گھر لینے کی اجازت ہے، اب میرے دوست نے ایک گھر 28000 کا کرایہ پر لیا ہے، کیا وہ یہ اضافی پیسے 9000 ماہانہ کمپنی سے لیکر خود استعمال کر سکتا ہے یا نہیں ؟ البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ اگر کرایہ 37000 سے زیادہ ہو، تو وہ زائد رقم میرے دوست کو ہی ادا کرنی ہو گی۔
کمپنی کی طرف سے گھر کے کرایہ کی مد میں اگر ملازم کے لئے 37000 روپے مختص ہوں (خواہ وہ 7000 3 سے کم کرایہ والے مکان میں رہے ) تو ایسی صورت میں سائل کے دوست کے لئے بقیہ 9000 روپے اپنے استعمال میں لانا جائز ہو گا، لیکن اگر کمپنی ملازمین کی رہائش کے مطابق انہیں کرایہ دیتی ہو، جس کی زیادہ سے زیادہ مقدار 37000 روپے ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے دوست کے لئے 28000 روپے والے مکان میں رہائش اختیار کر کے غلط بیانی یا جعل سازی کے ذریعہ پوری رقم وصول کرنا اور باقی رقم اپنے استعمال میں لانا جائز نہ ہوگا۔
لما في التنزيل العزيز {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا } [النساء: 29]۔
و في صحيح البخاري: وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم» اھ (3/ 92)۔
و في صحيح مسلم : 164 - (101) حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب وهو ابن عبد الرحمن القاري ح، وحدثنا أبو الأحوص محمد بن حيان، حدثنا ابن أبي حازم، كلاهما عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا» (1/ 99)۔
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0