میرا کمپنی میں کام یہ ہے کہ میں بے روز گار لوگوں کو فون کر کے بلاتا ہوں کہ میری کمپنی روز گار ڈھونڈنے میں مدد کرے گی، روز گار ملنے پر تمہیں ہر مہینہ تنخواہ کا تیس فیصد کمپنی کو دینا ہو گا، میں جتنے زیادہ بندے لاؤں گا، میری تنخواہ اتنی زیادہ ہو گی، کیا میرے لئے کمپنی کے لئے کام کرنا حلال ہے ؟ اور کیا کمپنی کا ایسا کرنا جائز ہے ؟
کمپنی کامذکورہ لوگوں سے صرف ایک مرتبہ تنخواہ کا تیس فیصد بطورِ اجرت وصول کرنا تو شرعاً درست ہے، ہر ماہ نہیں، نیز اگر کمپنی کا اس کے علاوہ کوئی اور بھی ذریعۂ آمدن ہو تو سائل کے لئے تنخواہ شرعاً حرام نہ ہو گی۔
كما في الدر المختار: (وإذا شرط عمله بنفسه) بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله لا يستعمل غيره) ولو غلامه أو أجيره قهستاني؛ لأن عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه اھ (6/ 18)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0