میری کمپنی نے مجھے پٹرول کارڈ دیا ہے، جس سے میں ماہانہ محدود لیٹر تک پٹرول ڈلوا سکتا ہوں ، کمپنی نے سرکاری اور ذاتی دونوں طرح کے استعمال کی اجازت دی ہے، لیکن پٹرول پھر بھی بچ جاتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا بچا ہوا پٹرول میں اپنے دفتر کے ساتھیوں کو ان کے ذاتی استعمال کے لئے دے سکتا ہوں؟
کسی بھی ادارے کی طرف سے اپنے ملازمین کے لئے پیٹرول یا علاج معالجہ کی مد میں سہولت کی حد مقرر کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملازم اس مقدار تک اس سہولت سے استفادہ کر سکتا ہے ، اور مقرّرہ اخراجات سے زیادہ کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہ ہوگی، لیکن مطلوبہ مقدار مکمل کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ہوتا، اور نہ ہی عموماً اس سہولت کو ادارہ یا ذاتی استعمال کے بجائے دوسروں کو فروخت کرنے یا ہدیہ کرنے کی اجازت ہوتی ہے، اس لئے اگر سائل کو با قاعدہ کمپنی کی طرف سے مذکور مقدار پوری کرنے کے لئے کمپنی اور ذاتی استعمال کے علاوہ دوسروں کو دینے کی صراحت کے ساتھ اجازت نہ ہو ، تو اس کے لئے زائد پیٹرول دوست احباب کو دینا شرعاً جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے۔
کما في القرآن المجید {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا } [النساء: 29]۔
و في صحيح البخاري: وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم» اھ (3/ 92)۔
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)۔
و في صحيح مسلم : 164 - (101) حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب وهو ابن عبد الرحمن القاري ح، وحدثنا أبو الأحوص محمد بن حيان، حدثنا ابن أبي حازم، كلاهما عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا» (1/ 99)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0