جناب مفتی صاحب میں نے پارپل نامی آن لائن سافٹ وئیر میں پیسہ لگایا تھا، میرے راس المال کی رقم متعین نہیں تھی ، اور میں روزانہ کی بنیاد پر اس سافٹ وئیر میں کام کرتا ہوں پیسہ کمانے کیلئے ، جب کام کرتا ہوں آمدنی حاصل ہوتی ہے ورنہ مجھے آمدنی نہیں ملتی۔
ہماری معلومات کے مطابق پر پال کمپنی کا اصل کاروبار جس کے لئے وہ لوگوں کو ممبر بننے کی دعوت دیتی ہے، ایڈز دیکھ کر کمائی کرنا ہے (چاہے ممبر شپ انویسٹمنٹ میں ہو یا نیٹ ورک مارکیٹنگ میں ہو) جس میں شرعی اعتبارسے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں :
(1) ایڈز دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جاسکے، اور ایڈز دیکھنے والے ممبر کو اس پر اجرت کا مستحق ٹھہرایا جا سکے۔
(2) بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔
(3) مصنوعی طریقہ سے ویورز کی تعداد کو بڑھا کر دکھایا جاتا ہے جو کہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔
(4) مذکور کمپنی کے ساتھ کاروبار کی خرابی اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جبکہ اس میں نیٹ ورک مارکیٹنگ بھی پائی جاتی ہو۔
لہذا خود بھی اس کمپنی کا ممبر بننا اور کسی دوسرے کو اس کا ممبر بننے کی دعوت دینا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء الخ (6/4)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل الخ (6/4)۔
و فی البدائع: (ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح. الخ (6/59)۔