السلام علیکم!
جناب مفتی صاحب : مجھے "جنگ جمل" کے بارے میں بتائیں کہ کیا یہ جنگ حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان ہوئی تھی؟ اور کیوں اور کب ہوئی تھی؟ اور کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے (نعوذباللہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو شہید کیا تھا؟اور کیا اس جنگ کی وجہ سے ان کی شان میں کوئی فرق پڑتا ہے؟ براہ مہربانی مجھے ان سوالات کے تفصیل سے جوابات دیں؟ خصوصاً جنگ جمل کے بارے میں ، اس لئے کہ مجھے ایک شیعہ نے یہ سوالات کہے تھے، اور میں نے یہ بہت سے علماء سے پوچھا بھی ہے، لیکن کوئی بھی تسلی نہیں کر سکا؟ براہ مہربانی آپ تسلی بخش جواب دیں۔ شکریہ
"جنگ جمل" حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی جماعت کے درمیان خوارج کی غلط فہمیاں پیدا کرنے اور پھوٹ ڈالنے کے سبب پیش آنے والا واقعہ ہے، جو ان کی آپس کی مصالحت کو ختم کرنے کی خارجی سازش تھی، یہ واقعہ سن 32 ھ میں پیش آیا، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شہادت کسی کے ہاتھوں بھی نہیں ہوئی تھی، اس موقع پر اور نہ ہی کسی اور وقت، جبکہ اس واقعہ سے ان حضرات کی شان بھی متأثر نہیں ہوتی، بلکہ ہمارے لئے وہ بدستور قابل احترام ہی ہیں، اور ہمیں یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ ان بزرگوں کے باہمی نزاع کا فیصلہ کریں۔
مزید تفصیلات کے لئے " سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا" مؤلفہ :- حضرت سید سلیمان ندوی ؒ ۔ اور " حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق" مؤلفہ :- شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ ۔ کا مطالعہ ان شاء اللہ مفید رہے گا۔