سوال یہ ہے کہ 2015 میں مجھے میرے شوہر نے دو طلاقیں دی تھیں، لڑائی جھگڑے کی وجوہات پر پھر رجوع کرلیا،اب پھر لڑائی کی وجہ سے دو طلاقیں پھر دی،تو میراسوال یہ ہے کہ جو پہلے دو طلاق دی گئی تھیں وہ اب شمار ہونگی یا کالعدم ہونگی اور اب بھی کوئی گنجائش ہے دو طلاق کے بعد رجوع کرنے کی؟ برائے مہربانی میری رہنائی فرمائیں۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس طور پر کہ سائلہ کو اس کے شوہر نے 2015 میں دو طلاقیں دینے کے بعد عدت میں رجوع کرلیا ہو اور اب اس نے مزید دو طلاقیں دیدی ہوں تو اس سے سائلہ پر مجبوعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا جبکہ سائلہ ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]۔
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛(3/ 187)۔
وفی الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية(1/ 473)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0