میں نے اپنی بیوی کو جون 2018 میں ایک طلاقِ رجعی دی تھی،پھر جب بعد میں وہ حاملہ ہوگئی تھی تو ہم نے فتوی لیکر رجوع کرلیا تھا،اب 2020/10/12 تاریخ کو کسی رنجش کی وجہ سے میں نے اپنے ہوش وحواس میں تین دفعہ منہ زبانی طلاق دی،پھر ایک نوٹس 2020/10/14 تاریخ کو ٹی سی ایس کے ذریعہ بھیجا اور دوسرا نوٹس 2020/11/15 تاریخ کو ٹی سی ایس کے ذریعہ بھیجا،میرا سوال ہے کہ کیا ہماری طلاق واقع ہوگئی ہے یا رجوع کی گنجائش ہے؟
سائل نے سن 2018ء میں ایک طلاق دیکر جب عدت کے اندر رجوع بھی کرلیا تھا تو رجوع کے بعد ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا بھی درست واقع ہوا ہے،تاہم اس رجوع کے بعد سائل کے پاس آئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار تھا،اب دوبارہ لڑائی جھگڑے اور رنجش کی وجہ سے سائل نے جب تین دفعہ الفاظِ طلاق بولے ہیں،تو اس سےمزید دو طلاقیں بھی واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،جبکہ چوتھی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت ایام ِعدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 229، 230]۔
وفی الفتاوى الهندية: إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية(1/ 473)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0