میں ایک غیر ملکی کمپنی میں بطور آئی ٹی پروفیشنل ( پیشہ ورانہ ) کام کر رہا ہوں ، جو کہ تجارتی سوفٹ ویئر بناتی ہے ، اور ان سوفٹ ویئر کو زندگی سے متعلق تمام کاروبار والوں کو بیچتی ہے جیسے کہ سپورٹس، میڈیکل، پوشاک اور اسی طرح الکحل کا کاروبار بھی ، بسا اوقات ہم الکحل والے گاہک کے سوفٹ ویئر کے ساتھ ڈائیریکٹ کام کرتے ہیں، ان کے سوفٹ ویئر کے مسائل کو حل کرتے ہیں، اس طرح وہ آسان طریقے سے الکحل بیچتے ہیں، کیا اس طرح کی کمپنی سے حاصل ہونی والی آمدنی حلال ہے؟
مذکور کمپنی کا بنیادی کام اگر سوفٹ ویئر کی تیاری اور اس کو مینٹین کرنے کا ہو، تو سائل کے لیے مذکور کمپنی میں کام کرنا اور تنخواہ کی صورت حاصل شدہ رقم کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، تاہم الکحل اگر کھجور اور انگور سے کشیدہ ہو تو اس کی خرید و فروخت کے لیے سوفٹ ویئر بنانے میں چونکہ ایک نوع معاونت آتی ہے ، اس لئے سائل کو حتی الامکان کوشش کر لینی چاہیے کہ ایسے سوفٹ ویئر بنانے کی ذمہ داری نہ لیا کرے۔
كما في فقه البيوع : أما الحنفية فالظاهر من متونهم انهم فرقوا بين ما قامت المعصية بعينه ، فكرهوا بيعه كبيع السلاح من اهل الفتنة وبيع امرد ممن يفجر به وبين ما لم تقم المعصية بعينه بل تحتاج إلى صنعه من المشترى ، فاجازوا بيعه كبيع العصير ممن يتخذه خمراً وبيع أرض لمن يتخذه كنيسة اھ(۱/ ۱۸۹)
و في التاتارخانيه : ولو استاجر الذمى مسلما ليبنى له بيعة أو صومعة أوكنيسة جاز ويطيب له الأجر اھ ۱۵/ ۱۳۲)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0