السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ کیا "نہج البلاغہ" ،ہم سنی حضرات کو پڑھنا چاہیئے اور" نہج البلاغہ" کیا تحقیق شدہ (مستند ) ہے، اگر "نہج البلاغہ" پڑھنی چاہیئے، تو کس پبلشر کی پڑھنی چاہیئے ۔
کتاب" نہج البلاغہ "جسکی مرویات کی نسبت اہل تشیع حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف کرتے ہیں ،اس کے مصنف ایک شیعہ عالم علی بن حسین بن موسی ٰ ہیں ،جو کہ علامہ شریف مرتضی ٰ کے نام سے مشہور تھے ،ہماری تحقیق کے مطابق مذکور کتاب کی بعض روایات موضوع (منگھڑت ) اور اہل ِتشیع کی اپنی ہی گڑھی ہوئی روایات ہیں ،جس کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا قطعاً درست نہیں ،لہذا عوام الناس کو مذکور کتاب کے مطالعہ سے اجتناب لازم ہے ۔
فی سیر اعلام النبلاء: العلامة الشریف المرتضیٰ نقیب العلویة ابو طالب علی بن حسین بن موسی القرشی العلوی الحسینی ولد سنة خمس و خمسین وثلاث مائة قال الخطیب کتبت عنہ قلت :ھوجامع کتاب "نہج البلاغة "المنسوبة الفاظه الی الامام علی (رضی اللہ عنه) ولا اسانید لذلک وبعضھا باطل وفیه حق ولکن فیه موضوعات حاشاالامام من النطق بھا ولکن این المصنف ؟وقیل بل جمع اخیه الشریف الرخی اھ (13/ 231)