میری بہن کو اس کے میاں نے 2012ء میں ایک طلاق دی تھی اور رجوع کر لیا تھا اس کے بعد بھی ان کے جھگڑے ہوتے رہے اور اس نے 19 جنوری 2021ء کو دوبارہ ایک ساتھ دو طلاقیں دیں، وہ اس وقت حیض میں تھی ان کے چار بچے ہیں، وہ عدت اپنے میاں کے گھر گزار رہی ہے ، اب دونوں پھر سے رجوع کرنا چاہتے ہیں ، آپ بتائیں کہ اب کوئی گنجائش نکلتی ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا سائلہ کے بہنوئی نے اگر واقعۃً 2012ء میں ایک طلاق رجعی دینے اور عدت کے دوران رجوع کرنے کے بعد 19 جنوری 2021 مزید دو طلاقیں دیدی ہوں، تو اسکی وجہ سے اس کی بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے،بہر صورت اس کی عدت گزارنے کےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کو رکھنے پر رضامندہو،تونئے مہر کےساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوجِ اول کےلئےحلال ہوجائے ,مکروہ تحریمی ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
کمافی الفتاوی التاتارخانیة :واذا طلق الرجل امراته فی حالة الحیض وقع الطلاق ویستحب ان یراجعھا اھ (4/382)
وفیھا ایضاً: وأما البدعي فنوعان(الی قوله) فالذي يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد بکلمة واحدة أو بكلمات متفرقة (الی قوله)وفی الھدایة :فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا. اھ(1/349)۔
وفی الھدایة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ}والمراد الطلقة الثالثة اھ (2/258)۔
وفی الھندیة: لا يحل للرجل أن يتزوج حرة طلقها ثلاثا قبل إصابة الزوج الثاني ولا أمة طلقها ثنتين اھ (1/311)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0