مفتی صاحب! ایک شخص ہے جو دماغی مرض میں مبتلا ہے،مثلاً اس کو دین دنیا کچھ نہیں سمجھ آتی اور اس کو لگتا ہے کہ دین یہ سب کچھ نہیں ہے، سب جھوٹ لگتا ہے، اور اس کو شک و شبہات نے بھی گھیر رکھا ہے اور کچھ بھی بولتا ہے اور کچھ بھی کر جاتا ہے، لیکن اس کو کسی بھی چیز کا احساس نہیں ہوتا، اس کو ہر معاملے میں شک رہتا ہے، چاہے وہ دین ہو یا پھر کوئی اور معاملہ ہو، یعنی اس کا دماغ صحیح طور پر کام نہیں کرتا اور اس کو یہ بھی شک رہتا ہے کہ یہ میرا باپ ہے کہ نہیں ہے یا پھر میری ماں ہے کہ نہيں، یعنی ساری چیزوں میں شک رہتا ہے اس کو تو کیا ایسے شخص کا اللہ کے یہاں مؤاخذہ ہو گا؟
کسی سچے مؤمن کو اس قسم کے خیالات اور وساوس کا آنا مخص شیطانی وساوس ہوتے ہیں، جن کا عند اللہ مؤاخذہ نہیں ہوتا، جب تک وہ ہوش و حواس کے باوجود ان کا قولاً یا فعلاً ارتکاب نہ کرلے، تاہم اگر کسی شخص کو مستقل طور پر ایسی حالت در پیش نہ ہو، بلکہ کبھی کبھی یہ معاملہ پیش آتا ہو تو وہ اللہ سے توبہ استغفار کرے، اور کثرت سے یہ دعا”﴿ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾“ پڑھتے رہا کرے، ان شاء اللہ مفید ہو گا۔
کما في القرآن الكريم: {لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَاتُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ} (البقرة:٢٨٦)
وفي صحيح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن الله تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تتكلم، وقال قتادة: إذا طلق فی نفسه فليس بشيء۔ اھ (1/2725)
وفي شعب الإيمان: عن سعيد بن مرجانة قال: جلست إلى عبد الله بن عمر فتلا هذه الآية: }لله ما فی السماوات وما فی الأرض{ إلى آخرها فبكى حتى سمعت نشيجه، فقمت حتى أتيت ابن عباس فأخبرته بما تلا ابن عمر فقال: يغفر الله لأبي عبد الرحمن لقد وجد المسلمون منها حلان نزلت مثل ما وجد عبد الله فأنزل الله عز وجل: }لا يكلف الله نفسا إلا وسعها{ الآية. وكانت الوسوسة مما لا طاعة للمسلمين به فصار الأمر بعد إلى قضاء الله تعالى أن النفس لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت فی القول والفعل.اھ(1/509)