غصے میں تین دفعہ طلاق ہو جاتی ہے ؟
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا اگر کوئی شخص غصہ کی حالت میں بھی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدے تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے، اس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقد نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوتی ہے۔
كما في الدر المختار: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديراً بدائع۔ ليدخل السكران ( ولو عبداً أو مكرماً) فان طلاقه صحيح لا اقراره بالطلاق ( ج ۳ ص ۲۳۵)
وفى الهندية: لا يحل للرجل ان يتزوج حرة طلقها ثلاثا قبل اصابة الزوج الثاني ولاامة طلقها ثنتين (1/311)۔
و في التاتار خانية: و اما البدعى فنوعان (الى قوله )فالذي يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثاً في طهر واحد بكلمة واحدة او بكلمات متفرقة (الى قوله) و في الهداية فاذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصياً (٢٢٦/٣).
وفي الهداية وان كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها والاصل فيه قوله تعالى : فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره والمراد الطلقة الثالثة اھ (2/399)۔ واللہ اعلم بالصواب
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0