میرے شوہر نے دو سال پہلے دوسری شادی کی لیکن پھر کچھ وقت بعد اس عورت کو طلاق دے دی اور کہا کہ یہ طلاق نہیں ہوئی کیونکہ میں نے پورا نام پکار کراسکوطلاق نہیں دی، مگر پھر کچھ وقت بعد دوبارہ طلاق دیدی اور کہا اس بار طلاق ہو گئی ہے تو پھر کسی آدمی سے اسکا جعلی نکاح پڑھوایا اور حلالہ کیا اور دوبارہ اس عورت سے شادی کر لی یہ اس عورت کی چوتھی شادی تھی، خیر اب پانچ مہینے پہلے دوبارہ سے ان دونوں میں طلاق ہو گئی، کیا اب یہ لوگ دوبارہ حلالہ کر کہ چھٹی دفعہ ایک دوسرے سے دوبارہ شادی کر سکتے ہیں ، کیا بار بار حلالہ اورشادی کرنا جائز ہے ، جبکہ حلالہ بھی غیر شرعی ہے۔
واضح ہو کہ اگر کسی شخص کی بیوی تین طلاقیں ہو جانے کے بعد عدت گزار کر کسی اور شخص کے نکاح میں چلی جائے، اور پھر وہ اس سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہو جائے ، تو ایسی صورت میں عدت گزارنے کے بعد اگرچہ وہ اپنے پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ، لیکن بار بار طلاق دینا اور پھر باقاعدہ حلالہ کروا کر دوبارہ اسی خاتون سے نکاح کرنا نہ صرف احکام شرعیہ کیساتھ مذاق کرنے کےمترادف ہے بلکہ عرف میں بھی ایک معیوب فعل ہے ، اس لیے اس عمل سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
كما في سنن أبى داؤد : عن علي رضي الله عنه، قال إسماعيل: وأراه قد رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لعن الله المحلل، والمحلل له».(2/227)۔
وفی عمدہ القاری : وقال ابن بطال: اختلفوا في عقد نكاح المحلل، فقال مالك: لا يحلها إلا بنكاح رغبة، فإن قصد التحليل لم يحلها، وسواء علم الزوجان بذلك أو لم يعلما، ويفسخ قبل الدخول وبعده، وهو قول الليث وسفيان بن سعيد والأوزاعي وأحمد، وقال أبو حنيفة وأصحابه والشافعي: النكاح جائز وله أن يقيم على نكاحه أو لا، وهو قول عطاء والحكم، وقال القاسم وسالم وعروة والشعبي: لا بأس أن يتزوجها ليحلها إذا لم يعلم بذلك الزوجان، وهو مأجور بذلك. وهو قول ربيعة ويحيى بن سعيد، وذهب الشافعي وأبو ثور إلى أن نكاح الذي يفسد هو الذي يعقد عليه في نفس عقد النكاح أنه إنما يتزوجها ليحللها ثم يطلقها، ومن لم يشترط ذلك، فهو عقد صحيح اھ(2/236)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0