السلام علیکم! سر میں ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں مار کیٹنگ کا کام کرتا ہوں، میرا ایک کسٹمر ہے جسکو ہم کپڑے بیچتے ہیں، اب میری کمپنی کے پرائس اس کو زیادہ لگتی ہے، اور وہ میری کمپنی سے سودا نہیں کرتا، اب کوئی دوسری کمپنی اس کو وہی دام دے رہی ہے جو اس کو چاہیئے، تو اگر میں اسکے بیچ میں سودا کروا دوں، جبکہ میری کمپنی کے دام زیادہ ہیں، اور اس کے عوض دوسری کمپنی سے کچھ معاضہ لوں، تو کیا وہ میرے لئے جائز ہوگا؟
واضح ہوکہ سائل جب تک مذکور کمپنی کا ملازم ہے، تب تک ا سکے لئے پہلی کمپنی سے اجازت لئے بغیر چھپ کر کسی اور کمپنی کی مصنوعات کےلئے کسٹمر سے لین دین کرنا اور اس پر اس دوسری کمپنی سے معاوضہ وصول کرنا دھوکہ دہی کی شکل ہے، اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
کما فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا»الحدیث (ج1 صـ99 ط: دار احیاء التراث العربی)۔
وفی مصنف ابن ابی شیبۃ: عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، قال: «المؤمن يطوي على الخلال كلها غير الخيانة، والكذب» الحدیث (ج5 صـ236 ط: مکتبۃ الرشد)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0