ہمارے ہمسائے کا انتقال ہو گیا ، ہسپتال والوں نے مرن پرچی پر موت کی وجہ کرونا لکھی، حالانکہ مرحوم کینسر سے وفات پا یا، اہلِ خانہ کو خلجان ہے کہ اسے بغیر عسل کے دفن کرنا پڑا، کیا اس سے ان پر کوئی قابلِ گرفت مسئلہ ہو گا ؟ اگر ہے تو کیا کفارہ دیا جائے ؟
مرحوم کے اہلِ خانہ اور اہلِ محلہ کو چاہیئے تھا کہ وہ مرحوم کو غسل دیتے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد اس کی تدفین کرتے، لیکن اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ میت کو غسل دیے اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھے بغیر اسے دفن کیا ہو، تو اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوئے ہیں، جس پر انہیں تو بہ و استغفار کرنا چاہیئے، تو بہ و استغفار کے علاوہ اس کا اور کوئی کفارہ نہیں۔
كما حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح : قوله: "و الثاني طهارته" عن نجاسة حكمية و حقيقية في البدن فلا تصح على من لم يغسل و لا على من عليه نجاسة و هذا الشرط عند الإمكان فلو دفن بلا غسل و لم يمكن إخراجه إلا بالنبش سقط الغسل و صلي على قبره بلا غسل للضرورة بخلاف ما إذا لم يهل عليه التراب بعد فإنه يخرج و يغسل (ص: 581)-
و فی البحر الرائق : فلو دفن بلا غسل ، و لم يمكن إخراجه إلا بالنبش صلي على قبره بلا غسل للضرورة بخلاف ما إذا لم يهل عليه التراب بعد فإنه يخرج ويغسل اھ (2/ 193)-
و في حاشية ابن عابدين : (قوله : ما لم يهل عليه التراب) أما لو دفن بلا غسل و لم يهل عليه التراب فإنه يخرج و يغسل و يصلى عليه جوهرة (قوله فيصلى على قبره بلا غسل) أي قبل أن يتفسخ كما سيأتي عند قول المصنف : و إن دفن بلا صلاة اھ (2/ 207)-
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1