السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
آج سے اندازاً ساڑھے پندرہ سال قبل میں نے ایک روایتی بینک conventional bank میں نوکری شروع کی ، پہلے تقریباً ساڑھے دس سال تک میں روایتی بینکاری میں رہا، پھر میری ٹرانسفر اسلامی بنکاری کے شعبے میں ہو گئی، یعنی پچھلے تقریباً پانچ سالوں سے میں اسی روایتی conventional بینک کے اسلامی بنکاری شعبے کی ایک اسلامی بینکاری برانچ کا مینیجر ہوں ؟ گزارش ہے کہ اس روایتی بینک نے اسلامی بنکاری کے شعبے کو چلانے کے لئے ملک کے مختلف بڑے مدارس سے مستند ترین مفتیانِ کرام کو ملازم رکھا ہوا ہے، بلکہ ایک مکمل sharriah advisory board قائم ہے، جو اسلامی بنکاری چلاتا ہے، اس کے علاوہ بھی انہوں نے بہت بڑے مدارس سے فتاویٰ جات حاصل کر رکھے ہیں ، تو کیا اب میں مطمئن رہ سکتا ہوں کہ اب میں حلال طیب رزق کما رہا ہوں؟ اور کیا اب اسی بینک کی کمائی سے میں عمرہ حج وغیرہ بھی حلال رقم آمدن سمجھ کر کر سکتا ہوں ؟ اصل بات یہ ہے کہ یوٹیوب پر بعض حضرات اور خاص کر ہمارے اور دیگر روایتی بنکوں کے روایتی سودی بنکاری کے شعبوں میں کام کرنے والے ہمارے دوست احباب وغیرہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک عرصہ تم سودی حرام کام کرتے رہے ہو ،اور اچانک تمہاری تنخواہ حلال ہو گئی، جبکہ بینک بھی تمہار اوہی رہا، وہ حضرات یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ اول تو تمہارا اور ہمارا بینک ایک ہی ہے، اور ایک ہی بینک میں رہتے ہوئے ہمارا رزق حرام اور تمہارا حلال طیب کیونکر ہو سکتا ہے؟ جبکہ پاکستان میں تمام ہی بینک اور ان کی ہر ہر برانچ اسٹیٹ بینک ہی کے نیچے کام کرتی ہے ،اور کوئی آزاد بینک تو ہے نہیں؟ دوسرا اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ سودی روایتی بینکاری میں گزارے دس برس میں تم نے گھر اور گاڑی کے لئے بھاری قرضہ لیا تھا ،جس سے مکان بنا کر اب ماہانہ کرایہ بھی وصول کرتے ہو ،اور اس قرضہ پر بینک تمہاری تنخواہ سے اب بھی قسط ماہانہ کاٹتا ہے، جس میں سود کی شرح انداز اً چار فیصد ہوتی ہے تو پھر کیوں کر تمہار ا رزق پاک ہوا؟ گزارش ہے کہ اس کے متعلق را ہنمائی فرمائیں ؟ جزاک الله الخیر
سائل نے مذکور بینک سے گھر کی خریداری کیلئے اگر سودی معاملہ کیا ہو ، تو وہ شرعاً ناجائز اور حرام تھا، اسی طرح سائل نے عرصہ دس سال تک اگر مذکور بینک میں کوئی ایسی ملازمت اختیار کر رکھی تھی، جس کا تعلق براہِ راست سودی لین دین سے تھا، تو وہ بھی شرعاً جائز نہیں تھی، جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنا چاہیئے ، لیکن اب اگر مذکور بینک نے اپنا کوئی اسلامک ونڈو کھولا ہے، جس کے معاملات مستند مفتیانِ کرام کی زیر نگرانی مکمل شرعی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہوں، تو سائل کیلئے اس میں ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے، چنانچہ اس ملازمت سے ملنے والی تنخواہ کو اپنے استعمال میں لانا یا اس سے حج و عمرہ کی ادائیگی کرنا درست ہوگا۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134) ۔
وفيه ايضاً: وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال: (يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا) اھ(2/ 123)۔
وفي الدر المختار: وكل أنواع الكسب في الإباحة سواء على المذهب الصحيح كما في البزازية وغيرها. (6/ 462)۔
وفي حاشية ابن عابدين: تحت (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) (إلی قوله) فالمراد من قولهم كل أنواع الكسب في الإباحة سواء أنها بعد أن لم تكن بطريق محظور لا يذم بعضها وإن كان بعضها أفضل من بعض تأمل اھ (6/ 462)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0