محترم جناب! مفتی صاحب! میں غیر شادی شدہ ہوں، اور میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی بھی چیز دیکھنے سے یا خیالات منتشر ہونے سے جو شرمگاہ میں سے پانی نکلتا ہے اُس سے کیا غسل فرض ہوتا ہے؟ ایک وہ ہوتا ہے جو شہوت ٹھنڈی ہونے کے بعد بغیر کسی جمپ کے نکلتا ہے اور ایک وہ جو شہوت کے ساتھ بغیر کسی جمپ کے نکلتا ہے، ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ جو شہوت ٹھنڈی ہونے کے بعد نکلا اس سے کیا ہوا اور جوشہوت کے ساتھ نکلا اس سے کیا ہوا؟ کیا ان دونوں سے غسل فرض ہوتا ہے؟ برائے کرم اس سوال کا جواب بتائیں۔
جو رطوبت محض خیالات یا بیوی کے ساتھ بوس و کنار کرنے وغیرہ سے آلہ تناسل پر نمودار ہوتی ہے اور وہ محض لیس دار مادہ ہوتی ہے اُسے مذی کہتے ہیں جو ناقضِ وضو ہے موجبِ غسل نہیں، جبکہ وہ رطوبت جو گاڑھی اور بدبودار ہونے کے ساتھ شہوت کے ساتھ آلہ تناسل سے کود کر نکلے اس کے نکلنے کے بعد عضو میں سستی آکر وہ منکسر ہونے لگے، اُسے منی کہتے ہیں اور یہ موجب غسل ہے۔