نمازِ جنازہ کے وقت میت کا چہرہ دیکھنا شریعت کے لحاظ سے کیسا ہے؟ برائے مہربانی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں کہ دیکھنا چاہیئے کہ نہیں؟
کسی شخص کی وفات کے بعد مردوں اور محرم عورتوں کے لئے اس کا چہرہ دیکھنا اسی طرح کسی عورت کی وفات کے بعد عورتوں اور محرم مردوں کے لئے اس کا چہرہ دیکھنا جائز ہے، مگر اس کو رسم بنا کر ضروری سمجھنا اور اس کی وجہ سے نمازِ جنازہ اور تدفین میں تاخیر کرنا درست نہیں، جس سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
فی سنن الترمذي : عن القاسم بن محمد ، عن عائشة ، أن النبي صلى الله عليه و سلم قبل عثمان بن مظعون و هو ميت و هو يبكي ، أو قال : عيناه تذرفان . و في الباب عن ابن عباس ، و جابر ، و عائشة ، قالوا : إن أبا بكر قبل النبي صلى الله عليه و سلم و هو ميت اھ (2/ 305)-
و فی الدر المختار : (و يمنع زوجها من غسلها و مسها لا من النظر إليها على الأصح) منية اھ (2/ 198)-
و فی حاشية ابن عابدين : تحت (قوله لا من النظر إليهما على الأصح) عزاه في المنح إلى القنية ، و نقل عن الخانية أنه إذا كان للمرأة محرم يیممها بيده و أما الأجنبي فبخرقة على يده و يغض بصره عن ذراعها و كذا الرجل في امرأته إلا في غض البصر اهـ و لعل وجهه أن النظر أخف من المس فجاز لشبهة الاختلاف و الله أعلم اھ (2/ 198)-
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0