اگر کسی عورت کا شوہر ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کو نہ مانے تو کیا اس عورت کا نکاح میں رہنا اپنے شوہر کے ساتھ جائز ہے یا وہ دونوں ایک دوسرے کے لئے حرام ہوں گے، فتوی دیں کہ اس عورت کے لئے شریعت میں کیا حکم ہے؟ جزاک اللہ !
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو نبی اور رسول نہ مانے یا آپ کو آخری نبی ماننے سے انکاری ہو تو ایسا شخص مسلمان نہیں ہے، لہذا اس کے ساتھ کسی بھی مسلمان خاتون کا نکاح جائز نہیں۔ لیکن سوال میں یہ تفصیل ذکر نہیں کی گئی ہے کہ مذکور خاتون کا شوہر نکاح سے قبل بھی انہیں کفریہ عقائد کا قائل تھا یا نکاح کے بعد اس نے یہ عقائد و نظریات اختیار کیے ؟ نیز اگر نکاح سے قبل اس کا یہی عقیدہ تھا تو مذکور خاتون کو اس کا علم تھا یا نہیں؟ لہذا مذکور تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ بھیج دیں، اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
كما في الدر مع الرد : و ارتداد احدهما اى الزوجين (فسخ) فلا ينقض عددا (عاجلا) بلا قضاء فللموطؤة ولو حكما كل مهرها، لتاكده به ولغيرها نصفه لو سمى و المتعة لو ارتد وعليه نفقة العدة.
وفي الرد : قوله بلا قضاء اى بلا توقف على قضاء القاضي، وكذا بلا توقف على مضى عدة في المدخول بها كما في البحر (3/425)
وفي الہندیۃ: اذا ارتد احد الزوجين عن الاسلام وقعت الفرقة بغير طلاق في الحال قبل الدخول بعد (1/317)
و فی الهداية في شرح بداية المبتدي : وإذا ارتد أحد الزوجين عن الإسلام وقعت الفرقة بغير طلاق(1/ 215)۔