السلام علیکم ! سورت بقرة کی آیت نمبر : 89 جو " و کانوا" سے "کفروا" تک ، کیا اس آیت میں کسی بھی تفسیر یا زاویہ سے وسیلہ کا تصور ظاہر ہوتا ہے ؟
واضح ہو کہ انبیاء، اولیاء یا نیک اعمال کے توسل سے دعا کرنا جائز بلکہ اجابت دعا میں مؤثر ہے، جبکہ دعا میں توسل کا ثبوت متعدد آیات قرآنی اور احادیث نبوی ﷺسے ہے، سوال میں مذکور آیت بھی انہی میں سے ایک ہے، جس کے شان نزول کے متعلق مفسرین کا کہنا ہے کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے یہود نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کے وسیلے سے فتح و نصرت کی دعا کیا کرتے تھے۔
کما فی تفسير القرطبي : قَوْلُهُ تَعَالَى:" وَلَمَّا جاءَهُمْ" يَعْنِي الْيَهُودَ." كِتابٌ" يَعْنِي الْقُرْآنَ." مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ" نَعْتٌ لِكِتَابٍ، وَيَجُوزُ فِي غَيْرِ الْقُرْآنِ نَصْبُهُ عَلَى الْحَالِ، وَكَذَلِكَ هُوَ فِي مُصْحَفِ أُبَيٍّ بِالنَّصْبِ فِيمَا رُوِيَ." لِما مَعَهُمْ" يَعْنِي التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ يُخْبِرُهُمْ بِمَا فيهما." وَكانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ" أَيْ يَسْتَنْصِرُونَ. وَالِاسْتِفْتَاحُ الِاسْتِنْصَارُ. اسْتَفْتَحْتُ: اسْتَنْصَرْتُ. وَفِي الْحَدِيثِ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ بِصَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ، أَيْ يَسْتَنْصِرُ بِدُعَائِهِمْ وَصَلَاتِهِمْ «1». وَمِنْهُ" فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ «2» ". والنصر: فتح شي مُغْلَقٍ(2/ 26)۔