کیا مسجد میں نماز اور جمعہ پڑھانے پر اجرت لینا حلال ہے؟جبکہ امام صاحب سندھ گورنمنٹ کے باقاعدہ ملازم ہیں، ایک دینی مدرسے کے بھی ذمہ دار ہیں، مسجد سے ملحق کشادہ مکان بھی بجلی سمیت فری میں مسجدِ انتظامیہ نے دیا ہوا ہے، اس وقت موصوف کے زیرِ استعمال گاڑی کی قیمت کم از کم چالیس لاکھ کی ہوگی، سال میں دو تین مرتبہ ایسی ایسی معیار کی گاڑیاں تبدیل کرتے ہیں، سنا ہے کہ گاڑیوں کے کاروبار میں بھی شراکت داری ہے(دروغ بہ گردن راوی) ماشاءاللہ معیارِ زندگی مڈل کلاس سے کہیں زیادہ ہے، بلکہ اپر کلاس کے برابر ہے۔
مذکور امام صاحب کی اگر ذمہ داری نمازِ جمعہ اور پنج وقتہ نماز پڑھانے کی ہو تو پنج وقتہ نماز اور جمعہ کیلئے وقت دینے کی وجہ سے معاوضہ کے مستحق ٹھہرتے ہیں، اگرچہ خود امام موصوف مالدار ہو۔
کما فی الدر المختار: (و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه) ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان.
وفی رد المحتار: (قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اهـ (6/55)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0