مفتی صاحب سوال یہ پوچھنا تھا کہ میرے شوہر نے مجھے ایک وقت میں تین طلاقیں دیدی، اور اسکا کہنا ہے کہ انکی نیت نہیں تھی میری خوشی کیلئے دی وہ نہیں دینا چاہتے تھے تو کیا کوئی گنجائش ہو گی میرابچہ بہت چھوٹا ہے برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیجئے۔ (ایک مجبور بیٹی )
شوہر اگر صریح الفاظ طلاق سے طلاق دیدے تو اگرچہ اس سے شوہر کی نیت طلاق کی نہ ہو یا کچھ بھی ہو تب بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذاسائلہ کے شوہر نے جب انکو تین طلاقیں دیدی ہیں تو اس سے سائلہ پر تین طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ہے، اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دونوں کا باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافي القرآن المجيد: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَالِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ) (۲۳۰) [البقرة: ۲۳۰]
وفي صحيح البخاري: وقال الليث حدثني نافع قال كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي الله أمرني بهذا فإن طلقها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيره (۷۹۲/۲)
وفي الشامية: لما في مسلم أن ابن عباس قال: «كان الطلاق على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في أمر كان لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث. (۲۳۳/۳)
وفی الھندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية(1/473)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0